Discy Latest Questions

  1. جواب : اس غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اب زمانے کے لوگ منافق ہوگئے ہیں اور اب لوگوں میں وہ خلوص ہی موجود نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ سچے اور کھرے ہوتے تھے اور ان کے جذبات بھی سچے ہوتے تھے لیکن اب انسان کے اندر وہ محبت وہ احساس کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ نہ ہی اس کی زندگی میں اب صداقت باقی رہی ہے۔

    • 0
  1. جواب : اس غزل کے چوتھے شعر میں شاعر افسوس کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے آدمی نے دولت، پیسہ اور ہر آسائش خرید لی ہے لیکن جو شے انسان کی اصل پہچان کرواتی ہے ، وہ آدمی کھو چکا ہے۔ اب انسان کے پاس سوائے آدمیت کے سب کچھ موجود ہے۔

    • 0
  1. جواب : وہ حروف و حرکات جو اشعار کے آخر میں آئیں، قافیہ کہلاتے ہیں۔ قافیے کے حروف تبدیل ہوتے ہیں۔ قوافی : ان اشعار میں خوئے وفا اور چون و چرا قافیے ہیں۔ سوال: اس غزل کی ردیف لکھیے۔ جواب : اس غزل کی ردیف ” کا “ ہے۔

    • 0
  1. اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن ہماری اس دعا میں کوئی خواہش کوئی فرمائش نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو عطا کیا ہے ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ساری چیزیں طلب کRead more

    • 0
  1. جواب : اس غزل میں شاعر نے کانٹوں سے ملک کے ان لوگوں کو تشبیہ دی ہے جنہوں انگریزوں کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔

    • 0
  1. جواب : شاعر کہتے ہیں کہ میں اتنا بدقسمت ہوں کہ مجھے قید کی وجہ سے اپنے ملک میں دفن ہونے کو بھی دو گز زمین تک نہ ملی اور میں وہاں دیارِ غیر میں ہی قید رہ رہ کر مر گیا۔

    • 0
  1. جواب : اس غزل میں شاعر نے بلبل خود کو کہا ہے جنہیں انگریزوں نے قید کردیا تھا۔ وہ یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے یعنی بلبل کو نہ باغ باں اور نہ صیاد سے گلہ ہے یعنی نہ مجھے اپنے لوگوں سے کوئی گلہ ہے نہ اپنے دشمنوں سے، کیونکہ یہ سب میری قسمت میں لکھا جاچکا تھا۔

    • 0