Bazm e Urdu Latest Questions

Sajid
  1. جواب : اس غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اب زمانے کے لوگ منافق ہوگئے ہیں اور اب لوگوں میں وہ خلوص ہی موجود نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ سچے اور کھرے ہوتے تھے اور ان کے جذبات بھی سچے ہوتے تھے لیکن اب انسان کے اندر وہ محبت وہ احساس کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ نہ ہی اس کی زندگی میں اب صداقت باقی رہی ہے۔

    جواب : اس غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اب زمانے کے لوگ منافق ہوگئے ہیں اور اب لوگوں میں وہ خلوص ہی موجود نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ سچے اور کھرے ہوتے تھے اور ان کے جذبات بھی سچے ہوتے تھے لیکن اب انسان کے اندر وہ محبت وہ احساس کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ نہ ہی اس کی زندگی میں اب صداقت باقی رہی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب : علم و حکمت اس وجہ سے اب علم و حکمت نہیں رہے ہیں کیونکہ اب انسان پاک طنیت نہیں رہا ہے۔

    جواب : علم و حکمت اس وجہ سے اب علم و حکمت نہیں رہے ہیں کیونکہ اب انسان پاک طنیت نہیں رہا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب : اس غزل کے چوتھے شعر میں شاعر افسوس کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے آدمی نے دولت، پیسہ اور ہر آسائش خرید لی ہے لیکن جو شے انسان کی اصل پہچان کرواتی ہے ، وہ آدمی کھو چکا ہے۔ اب انسان کے پاس سوائے آدمیت کے سب کچھ موجود ہے۔

    جواب : اس غزل کے چوتھے شعر میں شاعر افسوس کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے آدمی نے دولت، پیسہ اور ہر آسائش خرید لی ہے لیکن جو شے انسان کی اصل پہچان کرواتی ہے ، وہ آدمی کھو چکا ہے۔ اب انسان کے پاس سوائے آدمیت کے سب کچھ موجود ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب : وہ حروف و حرکات جو اشعار کے آخر میں آئیں، قافیہ کہلاتے ہیں۔ قافیے کے حروف تبدیل ہوتے ہیں۔ قوافی : ان اشعار میں خوئے وفا اور چون و چرا قافیے ہیں۔ سوال: اس غزل کی ردیف لکھیے۔ جواب : اس غزل کی ردیف ” کا “ ہے۔

    جواب : وہ حروف و حرکات جو اشعار کے آخر میں آئیں، قافیہ کہلاتے ہیں۔ قافیے کے حروف تبدیل ہوتے ہیں۔

    قوافی : ان اشعار میں خوئے وفا اور چون و چرا قافیے ہیں۔

    سوال: اس غزل کی ردیف لکھیے۔

    جواب : اس غزل کی ردیف ” کا “ ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن ہماری اس دعا میں کوئی خواہش کوئی فرمائش نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو عطا کیا ہے ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ساری چیزیں طلب کRead more

    اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن ہماری اس دعا میں کوئی خواہش کوئی فرمائش نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو عطا کیا ہے ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ساری چیزیں طلب کریں بلکہ اہلِ رضا تو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہتے ہیں اور اس کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔

    گنہ گارو ! چلو ، عفو الٰہی
    بہت مشتاق ہے عرض خطا کا

    اس شعر میں شاعر گنہ گاروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ لوگوں چلو ہم سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ بیشک اس رب کی رحمت بہت وسیع ہے اور وہ عطا کرنے والا اور خطا معاف کرنے والا ہے، تو ہم سب اس کے پاس چل کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب : اس غزل میں شاعر نے کانٹوں سے ملک کے ان لوگوں کو تشبیہ دی ہے جنہوں انگریزوں کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔

    جواب : اس غزل میں شاعر نے کانٹوں سے ملک کے ان لوگوں کو تشبیہ دی ہے جنہوں انگریزوں کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب : شاعر کہتے ہیں کہ میں اتنا بدقسمت ہوں کہ مجھے قید کی وجہ سے اپنے ملک میں دفن ہونے کو بھی دو گز زمین تک نہ ملی اور میں وہاں دیارِ غیر میں ہی قید رہ رہ کر مر گیا۔

    جواب : شاعر کہتے ہیں کہ میں اتنا بدقسمت ہوں کہ مجھے قید کی وجہ سے اپنے ملک میں دفن ہونے کو بھی دو گز زمین تک نہ ملی اور میں وہاں دیارِ غیر میں ہی قید رہ رہ کر مر گیا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب : اس غزل میں شاعر نے بلبل خود کو کہا ہے جنہیں انگریزوں نے قید کردیا تھا۔ وہ یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے یعنی بلبل کو نہ باغ باں اور نہ صیاد سے گلہ ہے یعنی نہ مجھے اپنے لوگوں سے کوئی گلہ ہے نہ اپنے دشمنوں سے، کیونکہ یہ سب میری قسمت میں لکھا جاچکا تھا۔

    جواب : اس غزل میں شاعر نے بلبل خود کو کہا ہے جنہیں انگریزوں نے قید کردیا تھا۔ وہ یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے یعنی بلبل کو نہ باغ باں اور نہ صیاد سے گلہ ہے یعنی نہ مجھے اپنے لوگوں سے کوئی گلہ ہے نہ اپنے دشمنوں سے، کیونکہ یہ سب میری قسمت میں لکھا جاچکا تھا۔

    See less
    • 0