Discy Latest Questions

  1. جواب: سلطان نے بابو جی سے اپنے سر کے اوپر ہاتھ رکھنے کے لیے اس لیے کہا کہ اسے سڑک پر چلتے ہوئے دادا کے ہاتھ کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کہا بابوجی حیرت میں تھے کہ سلطان نے ان سے سر پر ہاتھ رکھنے کے لئے کیوں کہا۔ مصنف نے افسانے میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بچوں کے لئے بڑے بزرRead more

    • 0
  1. جواب: دادا کا بہت مضبوط تھا۔ اپنے پنجے کو سلطان کے سرپر دباتے تھے۔ سلطان چھوٹا بچہ تھا اس کے سر کو اپنے سوکھے ہاتھ میں جکڑ لیتے تھے اس کو ایسا لگتا جیسے پتھر کی ٹوپی پہن لی۔ دادا کی انگلیاں درد کی لہر بن کر کھوپڑی میں دوڑ جاتی اور ہاتھ رکھتے ہی آدھا مر جاتا۔ سلطان کے دادا اندھے تھے اس لئے ڈر تھا کہRead more

    • 0
  1. جواب: سلطان ایک چھوٹا بچہ تھا وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح کھیلنا چاہتا تھا لیکن جب بھی وہ دادا کو چھپریا میں پہنچا کر نکلنا چاہتا تو اس وقت خالہ زیبو ٹوک دیتی اور شور مچا دیتی تھی کہ دیکھو اپنے بوڑھے اندھے دادا کو اکیلا چھوڑ کر کھیلنے چلا ہے۔

    • 0
  1. جواب : بہو جہاں آرا بیگم امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن وہ صاف ذہن کی مالک تھیں۔ ان کے اندر انسانیت اور سادگی تھی۔ جب ساس کا خط پڑھا فوراً گھر جانے کے لئے تیار ہو گئیں اور گاؤں جانے سے پہلے گھر والوں کے لیے تحائف اور دوسرے سامان کا بندوبست بھی کRead more

    • 0
  1. جواب : مصنف نے افسانے میں وحید کو ایک پودے کی مانند بتایا ہے کہ جو ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین میں لگا دینے سے اپنی نوعیت نہیں بدل دیتا۔ جیسے آم کا پیڑ کہیں بھی لگایا جائے آم ہی رہے گا اپنی شکل نہیں بدلے گا۔ اس طرح گلاب کو کہیں بھی لگایا جائے وہ چمبیلی نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ایک شخص جس ماحول میں پRead more

    • 0
  1. جواب: گاؤں پہنچنے سے پہلے وحید سوچ رہا تھا کہ خدا جانے گھر پر والدین نے بیگم کے لائق کوئی مکان بنوایا بھی ہے یا نہیں۔ بیگم کو ان دیہاتیوں کی باتیں پسند آئیں گی یا نہیں۔ یا ان لوگوں کو بیگم کا بے پردہ ہونا اچھا نہ لگے۔ پرانے خیالات کے ہیں دقیانوسی مراسم کے پابند ہیں اور جہاں آرا بیگم انگلستان کی پڑھیRead more

    • 0
  1. جواب : آئی سی ایس بننے کے بعد اس کی شخصیت ہی بدل گئی۔ اس نے محمد پور کے پھٹے پرانے کپڑے اتارنے کے بعد الہ آباد کے نئے چمکتے کپڑے پہن لیے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن چلا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات وحیدرپور کے شہاب الدین خان کی بیٹی جہاں آرا بیگم سے ہوئی۔ اس کے بعد دونوں نے شادی کرلی۔ جب حمید ہندRead more

    • 0
  1. جواب: ہر شام مایوس لوٹنے کے بعد بھی من کا طوطا ہر صبح گھر سے اس لیے نکل جاتا ہے تاکہ اس کی ساری خواہشات پوری ہو جائیں۔ انسان کی خواہشات تو لا محدود ہیں ان میں سے کچھ ہی پوری ہو پاتی ہیں جیسے من کے طوطے نے دریا کے کنارے بیٹھی خوبصورت سی عورت کے لیے دھن دولت، مکان،سانپ سے کٹوانا یہ سب کیا۔لیکن یہ سب کRead more

    • 0
  1. جواب: طوطے نے ایسا اس لئے بولا کیونکہ مصنف ایک پڑھا لکھا شخص ہے اور وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اسے اس کے بارے میں سوچتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ وہ عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے کہ نہیں اور اگر وہ عقل کے مطابق ہوتا ہے تو ہی وہ اس کا م کو کرتا ہے۔اس لئے من کے طوطے نے دلی خواہشات کو پورا نہ ہونے پر مصRead more

    • 0
  1. جواب: مصنف نے من کا طوطا سے مراد خواہشیں لی ہیں کہ انسان کے دل میں ہزاروں خواہشیں دبی ہوتی ہیں۔ کبھی سماج اس کی ان خواہشوں کو پورا نہیں ہونے دیتا یا پھر کبھی عقل آڑے آجاتی ہے۔کچھ لوگوں کی خواہشیں پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتی ہیں اور جن کی نہیں پوری ہوتی وہ اسی من کے طوطے طرح خیالوں میں سیر کرتے ہیں۔

    • 0