Discy Latest Questions

  1. جواب: صحرا کو دیکھ کر انسان کو پانی کا گمان ہو کر پیاس بجھانے کی سوچ آتی ہے مگر نزدیک آنے پر اسے وہ ریت ہی نظر آتی ہے۔ اس لیے صحرا کو دھوکے اور فریب کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    • 0
  1. جواب: شاعر نے اس لیے دریائے فرات کو بے فیض بتایا ہے کیونکہ اس کا فائدہ کربلا کے شہیدوں کو حاصل نہ ہوا۔ ان کو ترسایا گیا مگر پیاس بجھانے کے لیے ان کو پانی نہیں دیا گیا۔

    • 0
  1. جواب: آپ کا اصلی نام غلام محمد ملک اور شوریدہ تخلص تھا۔شوریدہ کشمیری قلمی نام تھا۔ 18 مارچ 1924ء کو تحصیل شوپیاں کے گاؤں پنجورہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد عبداللہ ملک تھا جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن اپنے بیٹے کی تعلیم کا انہیں بے حد شوق تھا۔ شوریدہ کاشمیری نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کیRead more

    • 0
  1. جواب: تنہا انصاری کا اصل نام حسین علی انصاری ہے۔ ان کے والد کا نام حسین علی انصاری تھا۔ وہ ایک بڑے تاجر تھے اور علم و فضل میں شہرت رکھتے تھے۔ تنہا انصاری 4 فروری 1914ء کو دلنہ بارمولہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دلنہ میں ہی حاصل کی۔ گھر میں سخت دشواریوں کے پیش نظر انھیں مڈل سکول پاس کرنے کے بعد ہیRead more

    • 0
  1. جواب: خزاں کے تند جھونکوں سے کیا مراد وہ عمر ہے جہاں انسان بڑھاپے میں دوسروں کا بوجھ بنتا ہے۔ لہذا شاعر کی ہاں ابھی اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں سکت نہیں ہے۔

    • 0
  1. جواب: شاعر کو پرسش اعمال کا خیال اس لیے ڈراتا ہے کیونکہ اس کی ساری زندگی خیال یار اور لذت دیدار میں گزری ہے۔ لہٰذا اب اسے اعمال کے محسابہ کی فکر ہے۔

    • 0
  1. جواب: مداوا سے مراد اپنے غم کا علاج کرنا ہے کیونکہ اس کا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہوتا بلکہ محبوب کی نظر میں اور اس کی ملاقات سے ہوتا ہے۔

    • 0
  1. جواب: لذت رسوائی: لذت رسوائی میں انسان اپنے آپ کی پرواہ کیے بغیر اپنے محبوب کو پانے کی کوشش کرتا ہے اگر چہ اس سفر میں اسے رسوائی ہی ہاتھ کیوں نہ آئے مگر اس رسوائی میں بھی ایک لذت اور مزہ محسوس ہوتا ہے۔

    • 0
  1. جواب: گوشہ تنہائی سے مراد فرصت کے لمحات میں اپنے کیے پر پچھتانا اور اپنے ضمیر کی ملامت کرنا ہے۔کیونکہ تنہائی ہی اچھا دوست ہے جو سب کچھ اچھا یا برا سمجھا تی ہے۔

    • 0