Discy Latest Questions

  1. جواب : اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لڑنے کے بجائے ہمیں ہر حال میں اپنی عقل کا استعمال کرنا چاہیے اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے۔ تاکہ ہر مسئلے کا مناسب حل نکل سکے۔ اس سبق کے خلاصے اور دیگر سوالات کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں

    • 0
  1. جواب : بادشاہ نے کہا کہ جسے ہیرے جواہرات ملے ہیں وہ اسے رکھ لے۔ جسے سونا ملا ہے وہ سونا رکھ لے۔ جسے مٹی کی دیگ ملی ہے وہ باپ کی زمین سنبھالے اور جس کے ہاتھ ہڈیاں آئی ہیں وہ چوپائے کے مال کا مالک ہے۔ اس سبق کے خلاصے اور دیگر سوالات کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں

    • 0
  1. جواب : چاروں بھائی کی تکرار بڑھ گئی اور بات چار معتبر لوگوں تک پہنچ گئی۔ لیکن وہ لوگ بھی فیصلہ نہ کر پائے اور یہ بات بادشاہ کے دربار میں حاضر کی گئی تاکہ بادشاہ اس بات کا فیصلہ کر سکے کہ کون شخص کتنی ملکیت کا مالک ہے۔ اس سبق کے خلاصے اور دیگر سوالات کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں

    • 0
  1. جواب : ساہوکار کے دو بیٹیوں کو سونے اور ہیرے کی دیگیں ملیں اور دو کو مٹھی بھر مٹی اور دو چار سوکھی ہڈیوں کی دیگ ملی۔ جن بھائیوں کو مٹی اور ہڈیوں والی دیگیں ملیں وہ سخت ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم اصل ملکیت میں سے ضرور حصہ لیں گے۔ اس سبق کے خلاصے اور دیگر سوالات کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں

    • 0
  1. جواب : ساہوکار نے اپنی ملکیت کے چار حصے کیے اور ہر حصہ ایک ایک دیگ میں ڈال دیا۔ پھر وہ چاروں دیگیں اپنی کھاٹ کے چاروں پایوں تلے گاڑ دیں اور چاروں سے کہا کہ میرے رو بہ رو اپنا اپنا پایا مقرر کرلو اور میرے مرنے کے بعد ان کے نیچے جو بھی گڑا ہوا ہو وہ کھود کر نکال لینا۔ اس سبق کے خلاصے اور دیگر سوالات کRead more

    • 0