Discy Latest Questions

  1. جواب: اس بند میں شاعر کشمیر کی دلکشی اس طرح بیان کر رہا ہے کہ پری محل کی سبز پہاڑی پر روشنی کے سائے میں ایک سونے کا بنا ہوا محل نظر آرہا ہے۔ جس میں کوہ طور پر بجلی جیسا سماں ہے۔ اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پری بناؤ سنگھار کر کے سامنے آرہی ہے۔ اور پھر اس محل کی سبز جھاڑیوں میں رنگین تیتریوں کا گانا اوRead more

    • 0
  1. جواب: ”پری محل“ شہ زور کاشمیری کی ایک خوبصورت نظم ہے۔ اس نظم میں شاعر نے یہاں کی صبح شام ،باغات کوہسار، فضا ،گل و بلبل، ڈل ، نظارہ، رونق ، پری محل ، کوہ سبز ،سبز جھاڑی اور چمن کے بارے میں اپنے اظہار خیالات پیش کیے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے یاد ہے وہ وادی کشمیر کا موسم بہار جب ہر چیز اپنی جان میں ہوتRead more

    • 0
  1. جواب: مسدس اس نظم کو کہتے ہیں جس کے ایک ایک بند میں چھ مصرعے ہوتے ہیں۔ اس نظم میں سادہ اور سلیس زبان کا استعمال ہوتا ہے۔

    • 0
  1. جواب: شاعر نے کشمیر کو گلکدہ اس لیے کہا ہے کیونکہ یہ پھولوں کا چمن ہے اور گلشن بے مثال ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے جنت میں کھلے ہوئے باغ کا نظارہ ہے۔

    • 0
  1. جواب: شاعر کے نزدیک کشمیر میں بہار کی کیفیت پُر رونق ہوتی ہے اور اسے وہ سب چیزیں یاد آتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے یاد ہے وہ کشمیر میں بہار کا موسم اور پانی کی وہ نہریں جو نغمہ خواں ہوتی ہیں۔ وہ پاک مٹی اور بادل جو پانی نہیں بلکہ مست کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ جب فضاؤں میں گل اور بلبلوں کے قRead more

    • 0