Discy Latest Questions

  1. جواب : بوڑھے شہزادے نے یہ بات اس لیے کہی کیونکہ ہر گزرنے والی تکلیف اور راحت انسان کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہتی بلکہ اس سے دور جاتی رہتی ہے۔ لیکن انسان کی زندگی میں گزرے ہر واقعہ میں کوئی کوئی عبرت ضرور ہوتی ہے جس سے سبق حاصل کر کے انسان اپنی اگے کی زندگی کو بہتر بناسکتا ہے۔

    • 0
  1. جواب : بوڑھے نے مضمون نگار کو کہا کہ میں مرزا بابر کا بیٹا ہوں۔ جب غدر پڑا تو بادشاہ وغیرہ تو مقبرہ ہمایوں گئے لیکن میں نے اپنے دوست کی طرف کرنال کا رُخ کیا۔ میرے ساتھ میری نابینا والدہ بھی تھیں۔ ہم چلتے رہے اور دشواریوں کا سامنا کرتے کرتے رات کو ایک گاؤں میں قیام کیا۔ وہاں کے لوگوں نے سویرے ہمیں لوRead more

    • 0
  1. جواب : بوڑھا اپنے ٹھیلے پر اپنے آپ کو بادشاہ اس لیے محسوس کرتا تھا کیونکہ وہ بیلوں پر حکومت کرتا تھا نہ کہ خود بیل بن کر محکوم بن جائے۔ اس لیے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عمریں ایم اے، بی اے کرنے میں ضائع کیں اور اب انگریزوں کے غلام بن کر کام کررہے تھے ، شہزادہ خود کو ان سے بہتر سمجھتا تھا۔

    • 0
  1. جواب : انگریز مجسٹریٹ نے از راہ ہمدردی بوڑھے سے کہا کہ آپ کی پینشن تو مقرر ہے پھر آپ یہ کام کیوں کرتے ہیں ؟ جس پر بوڑھے نے جواب دیا کہ ٹھیلا چلانے سے اسے تین چار روپے مل جاتے ہیں جس میں سے کچھ وہ خرچ کرتا ہے اور کچھ اسے بچ جاتا ہے۔ وہ بہت خوش ہے اور جب تک اس کے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں وہ کما کر کھانا پسRead more

    • 0
  1. جواب : ٹھیلے والے شخص کا نام ظفر سلطان تھا۔ اس نے انگریز مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ میں مرزا بابر بہادر شاہ بادشاہ کے بھائی کا بیٹا ہوں۔ میرے دادا ہندوستان کے شہنشاہ معین الدین اکبر شاہ ثانی تھے۔ غدر کے بعد میں نے ہزاروں پریشانیاں اٹھائیں ، ملکوں ملکوں پھرتا ہوا دہلی میں آگیا اور ٹھیلا چلانے کا کاRead more

    • 0