Discy Latest Questions

  1. جواب : اس نظم میں میر انیس واقعہ کربلا سے پہلے کے منظر کی منظر کشی کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں لہ اس صبح حد سے زیادہ گرمی تھی۔ اس دن اس قدر تیز دھوپ پڑی تھی کہ دن کا رنگ کالا ہوگیا تھا۔ وہاں پانی کا چشمہ بھی خشک ہوچکا تھا اور تمام جانور ادھر ادھر اپنے لیے سایہ تلاش کررہے تھے۔ وہ پودوں پر گرمی کی شدت کی مRead more

    • 0
  1. جواب : شاعر نظم کے دوسرے بند میں گرمی کی شدت کا احوال بیان کرتے ہوئے بتارہے ہیں اس دن اس قدر شدید گرمی تھی کہ جانور پانی سے اپنا سر نہ اٹھاتے تھے۔ ابھی وہ سر اٹھاتے کہ ان کا گلا دوبارہ خشک ہوجاتا اور وہ مسلسل پانی پی رہے تھے۔ طائر یعنی چھوٹے چھوٹے پرندے بھی جنگل میں اپنے لیے سائے تلاش کررہے تھے تاکہRead more

    • 0
  1. جواب : شاعر پودوں پر گرمی کی شدت کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دور دور تک کسی درخت پر کوئی گُل، کوئی پھل موجود نہیں تھا۔ نہ ہی وہاں کوئی سبزہ تھا اور نہ کوئی ہریالی بلکہ پھولوں کی ہر شاخ گرمی کی شدت سے سوکھ کر کانٹا بن چکی تھی۔

    • 0