Discy Latest Questions

  1. ’کشمیر‘ نظم چکبست کی ایک شاہکار نظم ہے۔ ان کی اس نظم سے شاعر کی اپنے گلشن بہار سے والہانہ محبت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مذکورہ نظم میں شاعر نے یہاں کے پہاڑیوں اور پرندوں کا چہچہانا اس انداز میں بیان کیا ہے کہ جس نے کشمیر نہیں دیکھا ہو گا وہ یہ نظم پڑھ کر ضرور دیکھنے کا متمنی ہو گا۔ یہاں کے پھولوں کی خوRead more

    • 1
  1. جواب: اس بند میں چکبست کہتے ہیں کہ ہمارے کشمیر کے وہ پرندے کہساروں پر صبح صبح جب میٹھے میٹھے گیت گاتے ہیں تو ان کی خوش نوائی پر انسان لزت حاصل کرتا ہے۔ اور یہاں سے جو سرد ہوائیں پھر اس کے ساتھ جو بارش کی بوندیں گرتی ہیں، اس سے اور زیادہ دلکشی پیدا ہو جاتی ہے۔ کشمیر کے لال لال میوے اور شالیمار، نشاطRead more

    • 1
  1. جواب: شاعر کو کشمیر کے چھوٹنے کی یاد آتی ہے۔ چکبست کا آبائی وطن کشمیر تھا۔ ان کے اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے فیصل آباد چلے گئے تھے اور جب بھی کبھی چکبست کو یہاں کی یاد آتی تو وہ بہت اداس ہوتے تھے۔

    • 0
  1. جواب: چکبست نے نظم ”کشمیر“ میں جو کشمیر کی مرقع نگاری کی ہے وہ کچھ اس طرح ہے : کہ صبح کے وقت کوہسار کے پھول جب مہکنے لگے اور ان کے ساتھ گھنی جھاڑیوں میں چڑیوں کا چہکنا اور پہاڑ پر شفق کی لالی اور بادلوں کے ٹکڑوں کا گھوم پھرنا عجب سماں پیدا کر رہا ہے۔ کشمیر ایک ایسی باغ کی طرح ہے جہاں ہر طرف چمن میںRead more

    • 0
  1. This answer was edited.

    پنڈت برج نارائن نام اور چکبست تخلص تھا۔ آپ ۱۸۸۲ میں فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آپ نے لکھنؤ میں حاصل کی اور یہاں کے ایک مقامی گورنمنٹ کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے وکالت کا امتحان پاس کرکے لکھنؤ میں وکالت شروع کی۔ آپ کو بچپن ہی سے شاعری کا شوق تھا۔ ۱۹۲۶ میں جب آپ ایک مقدمے کے سلسلےRead more

    • 0