Discy Latest Questions

  1. جواب : مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں سلاطین ، اہل منصب اور اہل ثروت خود بھی علوم میں ماہر ہوتے تھے۔ اس لیے وہ علما اہمیت اور ان کی قدر سے واقف تھے اس لیے ان کی سرپرستی کرنے میں بھی پیش ہیش رہتے۔ وہ علماء کا خرچ اٹھاتے تھے اور اپنی جیب سے ان کی ضروریات کو پورا کرتے تھے۔ وہاں معمولی امیر آدمی کے پاس بRead more

    • 0
  1. جواب : مسلمانوں کے عروج کے دور میں ہرات ، نیشاپور ، مرو ، بخارا، فارس ، بغداد، مصر ، شام اور اندلس کے شہر قرطبہ کو علمی مراکز کا درجہ حاصل تھا۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کے وہاں پر نہ صرف علوم کے ماہر اساتذہ بڑی تعداد میں موجود تھے، بلکہ وہاں پر مختلف جگہوں مثلاً مسجدوں کے صحن ، خانقاہوں کے حجرے اور علماRead more

    • 0
  1. دوسرا طریقہ یہ تھا کے اساتذہ اپنی نگرانی میں طلباء کے درمیان بحث و مباحثہ کا مناظرہ رکھتے۔جس میں دونوں طلباء کسی موضوع پر اپنے اپنے نکات پیش کرتے تھے اس عمل میں استاد کی رہمنائی بھی لے سکتے تھے اور آخر میں استاد بچوں کو اس کا نتیجہ بتاتے تھے۔

    • 0
  1. جواب : مسلمانوں کی فتوحات اور ان کے عروج کے زمانے میں علوم و فنون کی حیرت انگیز ترقی کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھ کر انہوں نے تعلیم کو اپنا اہم مقصد بنا لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمان بہت سے ایسے علوم سیکھ گئے جن کو وہ اپنے دفاع کے لیے استعمالRead more

    • 0
  1. جواب : علوم نقلی سے مراد وہ علوم ہیں جو ہم کہیں دیکھ کر پڑھتے ہیں، یعنی وہ علوم جو کتب بینی کے ذریعہ حاصل ہوں، جن کو پڑھنے کے لیے دماغ کا عمل دخل تقریباً نہ ہو۔ ان علوم میں حدیث ، تاریخ، اور روایات وغیرہ شامل ہیں۔ علوم عقلی وہ علوم ہیں جن کے لیے ہمیں سمجھ بوجھ کا استعمال کرنا پڑے، جہاں سارا کام اپنےRead more

    • 0
  1. جواب : جب مسلمانوں میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوا تو درس گاہوں میں نحو ، معانی ، لغت ، فقہ ، اصولِ حدیث ، تاریخ ، اسماءالرجال ، طبقات اور ان کے متعلقات پڑھائے جاتے تھے۔ اور اس سلسلے کے شروع ہوتے ہی درسگاہیں بھی قائم کی گئیں تاکہ ان علوم کو باقاعدہ طور پر سیکھایا جاسکے۔

    • 0
  1. جواب : قدیم زمانے کے مسلمانوں میں تعلیمی صورت بہت سادہ تھی۔ اس وقت اساتذہ کتب کا سہارا کم ہی لیتے بلکہ سیکھی سیکھائی باتیں جو کئیں وقتوں سے چلی آرہی ہیں ان کی تعلیم دیتے اور ایسے مسائل جن کا حل ہر عام انسان نہیں نکال سکتا وہ علوم سیکھائے جاتے تھے۔ اس دور میں زبانی سیکھانے کا رواج تھا، اور زیادہ علومRead more

    • 0