Discy Latest Questions

  1. جواب : مشرقی اقوام کے زوال کا اصل سبب سر سید احمد خان کی نظر میں یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کو استعمال کرنے کے بجائے بزرگوں کی رسومات کی بے جا تقلید کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

    • 0
  1. جواب : رسومات کی کورانہ تقلید انسان کو تنزل کی طرف لے جاتی ہے کیونکہ ایک زمانے کی رسم ضروری نہیں اگلے زمانے میں بھی مفید ثابت ہو، ہوسکتا ہے کہ ایک زمانے میں موجود رسم اس وقت کے لیے مفید ہو لیکن اب اس کی بےجا تقلید انسان کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

    • 0
  1. جواب : ہماری طبیعت غلط رسموں کی پابندی کی مطیع و متحمل اس لیے ہوجاتی ہے کیونکہ ہر انسان رسموں کی پابندی کو فرض سمجھتا ہے اور وہی چیز پسند کرتا ہے جو زیادہ تر لوگوں کو پسند ہوتی ہے۔ جب ایک انسان کو کسی بات کی خواہش کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر اس کی طبعیت مطیع و متحمل ہوجاتی ہے۔

    • 0
  1. جواب : یہ خیال کہ رسومات کی پابندی نہ کرنے سے انسان خراب ہوجاتا ہے اس لیے غلط ہے کیونکہ جس طرح انسان کے اندر برے کام کرنے کی قوتیں موجود ہیں ویسے ہی اسے ان کاموں سے روکنے کی قوتیں بھی موجود ہیں۔ اس لیے کسی کے خراب ہونے کی صورت میں وجہ رسموں رواج کی پابندی نہ کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے اندر کی قوتیں ہیںRead more

    • 0
  1. جواب : بےسوچے سمجھے پرانی رسومات کی تقلید سے گو کہ وہ رسمیں اچھی ہی کیوں نہ ہو ، آدمی کی ان صفتوں کی ترقی اور شگفتگی نہیں ہوتی جو خدا تعالیٰ نے ہر آدمی کو جدا جدا عنایت کی ہیں۔

    • 0
  1. جواب : سرسید نے ایک دانا کا عمدہ قول لکھا ہے کہ : ” انسان کی زندگی کا منشاء یہ ہے کہ اس کے تمام قوی اور جذبات نہایت روشن اور شگفتہ ہوں اور ان میں باہم نامناسبت اور تناقص واقع نہ ہو بلکہ سب کا مل کر ایک کامل اور نہایت متناسب مجموعہ ہو۔ “ سرسید احمد خان کہتے ہیں کہ ایک اور بڑے دانا شخص کی رائے کا نتیجRead more

    • 0