Discy Latest Questions

  1. جواب : اس غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اب زمانے کے لوگ منافق ہوگئے ہیں اور اب لوگوں میں وہ خلوص ہی موجود نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ سچے اور کھرے ہوتے تھے اور ان کے جذبات بھی سچے ہوتے تھے لیکن اب انسان کے اندر وہ محبت وہ احساس کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ نہ ہی اس کی زندگی میں اب صداقت باقی رہی ہے۔

    • 0
  1. جواب : اس غزل کے چوتھے شعر میں شاعر افسوس کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے آدمی نے دولت، پیسہ اور ہر آسائش خرید لی ہے لیکن جو شے انسان کی اصل پہچان کرواتی ہے ، وہ آدمی کھو چکا ہے۔ اب انسان کے پاس سوائے آدمیت کے سب کچھ موجود ہے۔

    • 0