Discy Latest Questions

  1. جواب : اس غزل میں شاعر نے کانٹوں سے ملک کے ان لوگوں کو تشبیہ دی ہے جنہوں انگریزوں کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔

    • 0
  1. جواب : شاعر کہتے ہیں کہ میں اتنا بدقسمت ہوں کہ مجھے قید کی وجہ سے اپنے ملک میں دفن ہونے کو بھی دو گز زمین تک نہ ملی اور میں وہاں دیارِ غیر میں ہی قید رہ رہ کر مر گیا۔

    • 0
  1. جواب : اس غزل میں شاعر نے بلبل خود کو کہا ہے جنہیں انگریزوں نے قید کردیا تھا۔ وہ یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے یعنی بلبل کو نہ باغ باں اور نہ صیاد سے گلہ ہے یعنی نہ مجھے اپنے لوگوں سے کوئی گلہ ہے نہ اپنے دشمنوں سے، کیونکہ یہ سب میری قسمت میں لکھا جاچکا تھا۔

    • 0
  1. جواب : اس غزل کے تیسرے شعر میں شاعر باغ باں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ باغ میں گُل کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ تم کانٹوں کو ان کے باغ سے مت نکالو، دراصل شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ ملک تمام لوگوں کا ہوتا ہے اور انگریز جیسے لوگوں کو ملک سے دربدر کررہے تھے تو وہ چاہتے تھے کہ انگریز ایسا نہ کریں۔ اس غزل کےRead more

    • 0