Discy Latest Questions

  1. جواب: مصنف نے کہانی کے آخری حصے میں کال کا ذمہ دار خود آدمی ہی کو ٹھرایا ہے کہ آدمی ان خود اپنے خون پسینے سے اگاتا ہے اور اگر آدمی آدمی کا خون چوسنا چھوڑ دے تو سارے سنسار کی کایا ہی پلٹ جائے۔ کال تو پہلے بھی پڑتے تھے لیکن غریبوں کے لیے ہمیشہ ہی کال پڑا رہتا ہے۔ کیونکہ سرمایہ دار پورا اناج اپنے قبضےRead more

    • 0
  1. جواب: چنتو ان دیوتا سے اس لیے ناراض رہتا تھا کیونکہ اسے لگتا تھا کہ ساری پریشانیاں ان دیوتا کی وجہ سے ہی آتی ہیں۔ چنتو ایک غریب گونڈ تھا۔ جس کو پیٹ بھر کر بھی روٹی نہیں ملتی تھی۔ کھیتوں میں بھی اتنی فصل نہیں تھی کہ یہ غریب گونڈ دو وقت کی روٹی کھا سکے۔ زندگی بڑی مشکلوں میں گزر رہی تھی کہ اچانک وہاں سRead more

    • 0
  1. جواب: برہما ان دیوتا کے پاس رہتا تھا۔ایک دن برہما نے کہا کہ اے ان دیوتا ! تو دھرتی پر کیوں نہیں چلا جاتا۔ان دیوتا برہما کی بات سن کر دھرتی پر چلا جاتا ہے لیکن جب وہ دھرتی پر پہنچا تو اس کا قد بہت ہی اونچا تھا۔ پھر برہما نے سندیس بھیجا کہ یہ تو بہت مشکل ہے تجھے تھوڑا اور چھوٹا ہو جانا چاہیے۔ آدمی کاRead more

    • 0