Discy Latest Questions

  1. جواب: منشی پریم چند نے جس دور میں یہ کہانی لکھی ہے اس وقت ایک ان پڑھ دیہاتی اور پڑھے لکھے ضلع انجینئر کے درمیان سماجی طور پر جو فرق ہوتا تھا تو ہمارا رویہ بھی بچپن کی دوستی ہونے کے باوجود وہی ہوتا جوگیا کا تھا۔

    • 0
  1. جواب: مصنف کو یہ احساس اس لئے ہوا کہ اس نے دوسرے دن گیا کو میچ کھیلتے ہوئے دیکھا کہ کس طرح گیا گلی ڈنڈا کھیل رہا تھا اور کس طرح وہ ٹل لگا رہا تھا۔اور کس طرح وہ مخالف ٹیم کی گلیوں کو پکڑ رہا تھا۔ یہ سارا منظر دیکھ کر مصنف کو خیال آیا کہ کل گیا نے میرے ساتھ کھیلنے کا صرف بہانہ کیا تھا۔ وہ صحیح طرح کھیRead more

    • 0
  1. جواب: ضلع انجینئر ہو جانے کی وجہ سے گلی ڈنڈا کھیلنے کی عادت نہیں رہی تھی اس لئے وہ بے ایمانی کرنے لگا۔ داؤں پورا ہونے پر بھی گلی ڈنڈا کھیلا جاتا تھا۔ حالانکہ اصول کے مطابق گیا کی باری آنی چاہیے تھی لیکن گلی تھوڑی دور پر گرتی تو گیا خود اٹھا کر دوبارہ ٹل لگاتا۔گویا ساری باقاعدگیوں سے کام لے کر ضلع انRead more

    • 0
  1. جواب: مصنف نے گلی ڈنڈے کو کھیلوں کا راجہ اس لے کہا ہے کہ اس کے لئے کسی میدان نٹ بلے وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ کسی درخت کی شاخ کاٹ کر گلی ڈنڈا بنا لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کھیل کے لئے ٹیم کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ اگر دو بھی آدمی ہوں تو کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی بغیر پیسہ خرچ کیے گلی ڈنڈا کھRead more

    • 0