Discy Latest Questions

  1. جواب: مولا بخش نے ساٹھ روپے مصنف کو اپنی بیوی کو بھجوانے کے لیے دیے تھے لیکن ان پیسوں سے مصنف نے شیر مال کباب وغیرہ کھالیے اور منی آرڈر فارم کو پہلے ہی سنیما کے سامنے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک چکا تھا۔ اب کھانے کے بعد جیب میں بائیس روپے بچے تھے۔ وہاں سے نکلا اور زکریا اسٹریٹ کے دروازے کے باہر ایکRead more

    • 0
  1. جواب: مولا بخش ایک محنتی انسان تھا اور وہ ہر مہینے کی تیرہ تاریخ کو کبھی چالیس کبھی پچاس اور کبھی سو روپے اپنی بیوی سکینہ کو بھیجتا تھا اور اس کا نام مولا ہے۔ لیکن منی آرڈر لکھواتے وقت اپنا نام مولا بخش لکھواتا ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ جب پہلی بار میں نے اس سے منی آرڈر فارم پر لکھنے کے لیے اس کا پتہ پوچھRead more

    • 0
  1. جواب: اس کہانی میں زندگی کی سب سے بڑی سچائی پیسے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کیونکہ پیسے کے بغیر آدمی کچھ نہیں کر سکتا اگر کسی آدمی کے پاس پیسے نہ ہوں تو غلط کاموں میں ملوث ہو جاتا ہے جیسے چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا تاکہ یہ سب کر کے اسے دو وقت کی روٹی میسر ہو سکے اور اپنی زندگی کی دوسری ضرورتوں کو پورا کرRead more

    • 0
  1. جواب: افسانہ نگار ہوٹل میں اخبار کے ایڈیٹر کا منتظر تھا کیوں کہ ایڈیٹر نے اسے ترجمے کا کام دینے کا وعدہ کیا تھا۔ افسانہ نگار کے پاس کوئی کام نہیں تھا اس کی جیب میں سوائے چند سکوں کے کچھ نہیں تھا اور اس لیے اس نے سوچا کہ کام ٹھیک ٹھاک ہوتے ہی ایڈیٹرسے ایڈوانس مانگ لے گا۔ جس سے وہ بھی زکریہ اسٹریٹ کےRead more

    • 0