Discy Latest Questions

  1. جواب : اس نظم کے دوسرے شعر میں شاعر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ کسی بھی مخلوق کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور بھی کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت بڑی ہے۔ کسی بھی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا تصور بھی کرسکے۔ اس نظم کے پانچویں شعر میں شاعRead more

    • 0
  1. جواب : اللہ تعالیٰ کی قدرت زمین و آسمان اور اس میں موجود ہر شے سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس نظم کی تشریح اور دیگر سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

    • 0
  1. جواب : لعل و گہر سے شاعر کی مراد آسمان میں چمکے ستارے ہیں، جن میں سے اکثر ستارے ہماری زمین سے بھی بڑے ہیں۔ اس نظم کی تشریح اور دیگر سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

    • 0
  1. جواب : شاعر نے تمام سیاروں ، چاند ، ستارے ، زمین ، سورج کی آپس میں کشش کو زنجیر کا نام دیا ہے جس کی مدد سے یہ تمام چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنے اپنے مدار میں گھوم رہی ہیں۔ اس نظم کی تشریح اور دیگر سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

    • 0
  1. جواب : نظم میں چھت سے مراد آسمان ہے۔ اس نظم کی تشریح اور دیگر سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

    • 0