Bazm e Urdu Latest Questions

Pinned
Sajid
  1. علامہ اقبال انسانی استحصال کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ انسان رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، یہی وجہ تھی کہ انہیں شاعر مشرق کہا جاتا ہے۔

    علامہ اقبال انسانی استحصال کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ انسان رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، یہی وجہ تھی کہ انہیں شاعر مشرق کہا جاتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. تحریر: فراز احمد پی پی ایس سی کا امتحان پاس کرنا ہر باصلاحیت طالب علم کا خواب ہوتا ہے اس امتحان کو پاس کرنے کے لیے ہزاروں طلبہ دن رات محنت کرتے ہیں لیکن کامیابی چند ایک کے ہی قدم چومتی ہے۔ پی پی ایس سی میں دو چیزیں شامل ہوتی ہیں ۱) ٹیسٹ ۲) انٹرویو بہت سے طلبہ تمام تر محنت و مشقت کے بعد بھی امتحان میRead more

    تحریر: فراز احمد

    پی پی ایس سی کا امتحان پاس کرنا ہر باصلاحیت طالب علم کا خواب ہوتا ہے اس امتحان کو پاس کرنے کے لیے ہزاروں طلبہ دن رات محنت کرتے ہیں لیکن کامیابی چند ایک کے ہی قدم چومتی ہے۔

    پی پی ایس سی میں دو چیزیں شامل ہوتی ہیں

    ۱) ٹیسٹ ۲) انٹرویو

    بہت سے طلبہ تمام تر محنت و مشقت کے بعد بھی امتحان میں بیٹھنے کے اہل نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کی تیاری صحیح نہیں ہوتی وہ نہیں جانتے کہ کہ کیا پڑھنا ہے اور کیسے تیاری کرنی ہے محنت و مشقت اس وقت رنگ لاتی ہے جب اس کی سمت درست ہو۔

    دوستوں ہمارا جو موضوع ہے وہ پی پی ایس سی اردو کے ٹیسٹ کی تیاری ہے یعنی اردو کے ٹیسٹ کی تیاری کس طرح کی جائے تو دوستوں میں آپ کو چند اصول و ضوابط بتا دیتا ہوں کہ آپ نے کس طرح تیاری کرنی ہے۔

    ﴿ ” نصاب “ ﴾

    ہماری تیاری کا پہلا جو پوائنٹ ہے وہ نصاب ہے آپ نے سب سے پہلے جماعت نہم سے لے کر ماسٹر تک کی اردو کی تمام کتابوں کا ایک تفصیل کے ساتھ مطالعہ کرنا ہے مطالعہ کرتے وقت آپ کے ہاتھ میں قلم ضرور ہونا چاہیے اور ساتھ ایک رجسٹر بھی کیونکہ جہاں بھی اہم پوائنٹ آئے آپ نے فوری رجسٹر پر لکھ لینا ہے تاکہ بعد میں یاد کرنے میں آسانی ہو جائے۔

    ﴿ تاریخ ﴾

    دوسرا ہمارا پوائنٹ ہے تاریخ بیٹا جب تک ہم اردو کی تاریخ کو نہیں پڑھے گئے اس وقت تک ہمارے ہاتھ خالی ہی رہے گئے کیونکہ تاریخ ہی کسی زبان کی جان ہوتی ہے اور وہی سے زبان کے وجود کا پتہ چلتا ہے اس حوالے آپ نے دو کتابوں کا مطالعہ ضرور کا کرنا ہے ” اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ “ ڈاکٹر سلیم اختر اور دوسری کتاب ” اردو ادب کی مختصر تاریخ “ ڈاکٹر انور سدید۔

    ﴿ شاعری ﴾

    بیٹا اردو ادب کے دو حصے ہیں ایک شاعری کا دوسرا نثر کا ہم سب سے پہلے بات کرتے ہیں شاعری کی دوستوں یہ ہماری تیاری کا تیسرا پوائنٹ ہے بیٹا اردو ادب میں سب سے پہلے جس چیز کا وجود ہوا یعنی جو چیز لکھی گئی ہے وہ شاعری ہے بیٹا شاعری کے دو حصے ہیں ایک غزل دوسرا نظم ہم سب سے پہلے غزل کی بات کرتے ہیں۔

    غزل ) بیٹا غزل میں آپ نے سب سے پہلے شاعر کی تاریخ اور وفات کو یاد رکھنا پھر آپ نے ان کے شعری مجموعوں کو یاد رکھنا ہے پھر بیٹا ان کے شعری مجموعوں کی اشاعت کو یاد رکھنا ہے اور آخری پوائنٹ بیٹا شاعر کے چند مشہور اشعار کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے

    بیٹا کلاسیک شعراء کی علیحدہ فہرست بنائے اور جدید شعرا کی علیحدہ

    نظم ) نظم میں بیٹا سب سے پہلے نظم نگار کی تاریخ پیدائش اور وفات کا پتہ ہونا چاہیئے پھر بیٹا ان کے مجموعہ کا نام اور پھر اشاعت نظم میں یہ بات یاد رکھنی بیٹا ہر نظم نگار کے مجموعہ میں شامل نظمیں کی تعداد بھی آپ کو پتہ ہوں اور ساتھ ساتھ اس کی مشہور نظمیں کے نام بھی معلوم ہوں

    ﴿ نثر ﴾

    بیٹا نثر کے دو حصے ہوتے ہیں ایک افسانوی ادب دوسرا غیر افسانوی ادب سب سے پہلے ہم افسانوں ادب کرتے ہیں

    ﴿ افسانوں ادب ﴾۔ بیٹا افسانوں ادب میں چار چیزیں شامل ہوتی ہیں ناول،افسانہ ، ڈراما ،داستان

    ناول) بیٹا ناول کی تیاری کرتے وقت پہلے آپ نے مصنف کی تاریخ پیدائش اور وفات یاد رکھنا ہے پھر بیٹا اس کے ناولوں کے نام پھر بیٹا ناولوں کی اشاعت کی تاریخ پھر ان کے ناولوں کے کرداروں کے نام آپ کو پتہ ہوں اور بیٹا سب سے اہم بات مصنف کے اسلوب کا بھی آپ کو پتہ ہونا چاہیے

    افسانہ)بیٹا افسانوں کی تیاری کرتے وقت سب سے پہلے آپ نے مصنف کی تاریخ پیدائش اور وفات کا پتہ ہونا ضروری ہے پھر بیٹا اس کے افسانوں مجموعے کے نام پھر بیٹا افسانوں مجموعوں کی اشاعت کی تاریخ پھر بیٹا مصنف کے مشہور افسانوی کے کرداروں کا بھی پتہ ہوں اور مصنف کے اسلوب کا پتہ ہونا چاہیئے

    ڈراما )بیٹا ڈرامے کی تیاری کرتے وقت سب سے پہلے آپ نے مصنف کی تاریخ پیدائش اور وفات پھر بیٹا اس کے ڈراموں کے نام پھر بیٹا ڈراموں کے اشاعت کی تاریخ کا پتہ ہونا چاہیئے

    داستان) بیٹا داستان کرتے وقت سے پہلے آپ نے مصنف کی تاریخ پیدائش اور وفات پھر بیٹا اس کی کتابوں کے نام پھر بیٹا داستان کی اشاعت کی تاریخ پھر ان کے داستان کے کردار کے نام آپ کو کو پتہ ہوں

    ﴿ غیر افسانوی ادب ﴾

    بیٹا غیر افسانوی ادب میں آٹھ چیزیں شامل ہوتی ہیں

    آپ بیتی) اس میں آپ مشہور آپ بیتیوں کے نام اور اشاعت کو یاد دیکھنا ہے اور اہم بات آپ بیتی کے ساتھ مصنف کا نام بھی آنا چاہیے

    خاکہ ) اس میں آپ نے مشہور خاکہ نگاری کے نام اور ان کی کتابوں کے نام یاد رکھنے ہیں

    سفر نامہ ) اس میں آپ نے مشہور سفر ناموں کے نام اور ان کی اشاعت کے ساتھ مصنف کا نام بھی یاد رکھنا ہے

    طنز و مزاح) اس میں مشہور مزاح نگاروں کے نام اور ان کی تصانیف کا نام یاد رکھنا ہے

    انشائیہ ) اس میں مشہور انشائیہ نگاروں کے نام اور ان کی تصانیف کا نام یاد رکھنا ہے

    تحقیق و تنقید ) اس میں آپ نے مشہور تحقیق و تنقید نگاروں کے نام اور مشہور تحقیق و تنقید پر مشتمل کتابوں کے نام یاد رکھنے ہیں

    مثنوی اور مرثیہ ) اس میں آپ نے مشہور مثنویوں اور مرثیے کے نام اور ان کی تصانیف کو یاد رکھنا ہے

    صحافت ) اس میں آپ کو صحافت کے متعلق یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صحافت کیا چیز ہوتی اور صحافی کے اصول اور مشہور شخصیات کا پتہ ہونا چاہیئے جن کا صحافت سےتعلق ہوں

    ﴿ ” گرائمر ” ﴾

    گرائمر میں چار چیزیں اہم ہیں ٹیسٹ کے لیے

    ۱) ضرب الامثال ۲) علم بیان ۳) علم بدیع ۴) محاورے

    ﴿ الفاظ کے معنی ﴾

    آپ کے پاس اردو ڈکشنری کی کتاب ضرور ہونی چاہیے کیونکہ پیپر اور انٹرویو میں الفاظ کے معنی بھی پوچھے جاتے ہیں

    ﴿ نوٹ بک ﴾

    بیٹا ایک بات یاد رکھنا آپ جینا مرضی پڑھ لے جب تک آپ چیزوں کو لکھے گئے نہیں آپ کامیاب نہیں ہوسکتے میں اتنا کہو گا بیٹا پڑھتے وقت قلم اور رجسٹر ساتھ رکھے جو بھی چیز اہم لکھے وہ اس وقت ہی لکھ لے تاکہ بعد میں پڑھتے وقت آسانی ہو جائے

    ﴿ حرفِ آخر ﴾                                                                                                                                                                بیٹا آخر میں صرف اتنا کہو گا محنت اور لگن کے ساتھ تیاری کرنا اور فیصلہ اللہ پہ چھوڑ دینا کیونکہ وہ کسی محنت کو ضائع نہیں کرتا

    See less
    • 0
Sajid
  1. دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا اس میں کتا سے مراد "کُتا" "dog" ہی لیا، سمجھا، اور پڑھا بھی جاتا ہے، لیکن آج نئی بات علم میں آئی تو ہماری علمیت کا جنازہ نکل گیا۔ ‏یہ لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے جس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔   وضاحت اصل لفظ کتکہ ہے جو بگڑ کر کتاRead more

    دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا اس میں کتا سے مراد "کُتا” "dog” ہی لیا، سمجھا، اور پڑھا بھی جاتا ہے، لیکن آج نئی بات علم میں آئی تو ہماری علمیت کا جنازہ نکل گیا۔ ‏یہ لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے جس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔

     

    وضاحت

    اصل لفظ کتکہ ہے جو بگڑ کر کتا بن گیا۔ پرانے وقتوں میں کپڑے گھاٹ پر دھوئے جاتے تھے اور کپڑوں کو صاف کرنے کیلئے دھوبی اک بھاری بھرکم ڈنڈے کا استعمال کیا کرتا تھا، جس کو کتکہ کہا جاتا تھا۔ وہ کتکہ گھاٹ پر نہیں رکھا جاتا تھا کیوں کہ کوئی اور اٹھا لے گا اور گھر لانے میں بے جا مشقت کرنی پڑتی۔ اس لیے دھوبی وہ کتکہ راستے میں مناسب جگہ چھپا دیتا اور اگلے دن نکال کر پھر استعمال کر لیتا۔ اس طرح کتکہ نہ گھر جا پاتا اور نہ گھاٹ پر رات گزارتا۔ دھوبی کا کتکہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ جو نئے دور میں بگڑ کر کتا بن گیا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. قدرت اللہ شہاب کا طویل افسانہ "یا خدا" بھی تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔جس میں کہانی کو مناظر میں دکھایا گیا ہے۔قیام پاکستان کے وقت کا مشرقی پنجاب، لاہور کے مہاجر کیمپ اور کراچی۔ افسانے کے پہلے حصے میں افسانوی کردار دلشاد کے ساتھ سکھوں کے کئے گئے مظالم کو بیان کیا گیا ہے۔دوسرے منظر میں مہاجر کیمپRead more

    قدرت اللہ شہاب کا طویل افسانہ "یا خدا” بھی تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔جس میں کہانی کو مناظر میں دکھایا گیا ہے۔قیام پاکستان کے وقت کا مشرقی پنجاب، لاہور کے مہاجر کیمپ اور کراچی۔ افسانے کے پہلے حصے میں افسانوی کردار دلشاد کے ساتھ سکھوں کے کئے گئے مظالم کو بیان کیا گیا ہے۔دوسرے منظر میں مہاجر کیمپوں میں ہونے والی بربریت کو بیان کیا گیا ہے۔جہاں زندہ انسانوں کی بجائے مر جانے والوں کو کمبل نصیب ہوئے اور دوسری جانب مرد کس طرح یہاں سے عورتوں کو گاڑیوں میں بھر کر لے جاتے اور اپنا کام نکال کر چوڑ جاتے۔ تیسرا منظر وسیع القلب شہر کراچی کا ہے یہاں کہانی کی یہی عورتیں باقاعدہ جسم فروشی کا کاروبار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔اس افسانے میں قدرت اللہ شہاب نے عورت کی ٹریجڈی اور بکھرے خوابوں کو دکھا یا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. تقسیم کے بعد لکھے گئے افسانوں میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ "کھول دو" نہایت اہم ہے۔اس میں ایک ایسے واقعے کی تہہ میں اترنے کی کوشش کی گئی ہے جس کو دیگر لوگ محض ایک منظر کے طور پر دیکھ رہے تھے۔پاکستان داخل ہونے والی سکینہ جسے رضا کار نوجوان محافظ بن کر لے جاتے ہیں۔مگر اس کو زندہ لاش کے طور پر چھوڑ جاتےRead more

    تقسیم کے بعد لکھے گئے افسانوں میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ "کھول دو” نہایت اہم ہے۔اس میں ایک ایسے واقعے کی تہہ میں اترنے کی کوشش کی گئی ہے جس کو دیگر لوگ محض ایک منظر کے طور پر دیکھ رہے تھے۔پاکستان داخل ہونے والی سکینہ جسے رضا کار نوجوان محافظ بن کر لے جاتے ہیں۔مگر اس کو زندہ لاش کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں۔منٹو نے اس افسانے کے پس منظر میں انسان کے اندر چھپے وحشی کو بے نقاب کیا ہے۔ساتھ ہی تقسیم کے وقت ہونے والے مظالم کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. ہاجرہ مسرور کا افسانہ "امت مرحوم" تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔افسانے میں ان زندہ دلوں کا تذکرہ بیان کیا گیا ہے جو مہاجر کیمپوں کو پکنک پوائنٹ سمجھتے تھے۔اور وہ ڈاکٹر بھی جنہیں مہاجرین کی کاہلی کا شکوہ ہے۔

    ہاجرہ مسرور کا افسانہ "امت مرحوم” تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔افسانے میں ان زندہ دلوں کا تذکرہ بیان کیا گیا ہے جو مہاجر کیمپوں کو پکنک پوائنٹ سمجھتے تھے۔اور وہ ڈاکٹر بھی جنہیں مہاجرین کی کاہلی کا شکوہ ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. انتظار حسین کا افسانہ "اجودھیا" بھی موضوع کے اعتبار سے آزادی کے فوراً بعد پیدا ہونے والی کشمکش کی غمازی کرتا ہے۔نئے حالات،نیا ماحول،آدمی می صدیوں پرانی آباؤ اجداد کی جائے پیدائش چھوڑنا، سٹیشن پر لوگوں کا ہجوم،قتل و غارت گیری وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔ماضی کی یادوں سے نڈھال حال سے بے زار اور مستقبل سے ماRead more

    انتظار حسین کا افسانہ "اجودھیا” بھی موضوع کے اعتبار سے آزادی کے فوراً بعد پیدا ہونے والی کشمکش کی غمازی کرتا ہے۔نئے حالات،نیا ماحول،آدمی می صدیوں پرانی آباؤ اجداد کی جائے پیدائش چھوڑنا، سٹیشن پر لوگوں کا ہجوم،قتل و غارت گیری وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔ماضی کی یادوں سے نڈھال حال سے بے زار اور مستقبل سے مایوس آدمی کی کیفیت "اجودھیا” افسانہ میں مجسم صورت میں موجود ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. انتظار حسین کا افسانہ "شہر افسوس" تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔اس کا بنیادی موضوع ہجرت ہے۔افسانے میں جس مسئلے کو موضوع بنا کر پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہجرت کی وجہ سے چھوڑی ہوئی بستیاں کس طرح واویلا کرتی ہیں۔نئی جگہ جہاں جاکر بسا جائے وہاں کا ماحول اور حالات اپنی منشا کے مطابق نہ پا کر جو کرب جنRead more

    انتظار حسین کا افسانہ "شہر افسوس” تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔اس کا بنیادی موضوع ہجرت ہے۔افسانے میں جس مسئلے کو موضوع بنا کر پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہجرت کی وجہ سے چھوڑی ہوئی بستیاں کس طرح واویلا کرتی ہیں۔نئی جگہ جہاں جاکر بسا جائے وہاں کا ماحول اور حالات اپنی منشا کے مطابق نہ پا کر جو کرب جنم لیتا ہے اسے بیان کیا گیا ہے۔

    See less
    • 0