Discy Latest Questions

Pinned
  1. علامہ اقبال انسانی استحصال کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ انسان رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، یہی وجہ تھی کہ انہیں شاعر مشرق کہا جاتا ہے۔

    • 0
  1. اصل لفظ "صحیح” ہے ، اسے بدل کر ایک لفظ "سہی” بھی بنالیا گیا ، دونوں قریب المعنی ہیں ، مگر محل استعمال میں فرق ہے۔ جہاں صرف کسی چیز کی درستی بیان کرنی ہو وہاں "صحیح” استعمال کرتے ہیں۔ جہاں بات میں زور دینا ہو ، یا تقابل ہو یا گزارے کو بیان کرنا ہو تو ایسے مواقع پر "سہی” کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مثلRead more

    • 0
  1. ناول: ناول مغربی صنف ہے جو اردو میں داستان کے بعد رائج ہوئی۔ اس کے معنی نیا، انوکھا، عجیب اور نمایاں کے ہیں۔یہ ایک نثری کہانی ہوتی ہے جو کسی ایک انسان کی تمام زندگی پر محیط ہوتی ہے۔ داستان: اسے اردو نثر کی اولین صنف قرار دیا گیا ہے۔ جھوٹی کہانی یا من گھڑت قصہ ہوتی ہے۔ داستان وہ طویل کہانی ہے جو حقیقRead more

    • 0
  1. افسانہ وہ مختصر کہانی ہے جسے ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکے۔ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں انوکھا،نرالا اور عجب۔ افسانہ اور ناول میں بنیادی فرق 1۔مختصر ہوتا ہے۔ 2۔ایک خیال ایک واقعہ اور ایک احساس کو پیش کرتا ہے۔ 3۔ایک ہی پلاٹ ہوتا ہے۔ 4۔اس کا انجام کچھ ایسا ہوتا ہے کہ قاری آخر میں کچھ تشنگیRead more

    • 0
  1. This answer was edited.

    روزمرہ (USAGE) اہل زبان کی بول چال جس کے خلاف بولنا درست نہ مانا جائے روز مرہ کہلاتا ہے۔ آئے دن کی بجائے آئے روز بولنے سے معانی تبدیل نہیں ہوتے لیکن اہل زبان اس طرح نہیں بولتے۔  اہل زبان کی پیروی ضروری ہے۔ محاورہ (IDIOMS) محاورہ کے لفظی معنی بات چیت کے ہیں۔ اصطلاح میں محاورہ الفاظ کا مجموعہ ہے جو اہRead more

    • 0
  1. موجودہ دور میں میڈیا کی ترقی نے اردو ڈرامے میں خوشگوار اثرات مرتب کیے ہیں۔ عہد حا ضر میں کمال احمد رضوی، اور انور مقصود نے طنز ومزاح، فاطمہ ثریا بجیا نے گھریلو زندگی کے مسائل، سلیم احمد نے تاریخی موضو عات، اور اشفاق احمد نے روحانی اور نفسیاتی الجھنوں کے حوالے سے ڈرامے پیش کیے ہیں۔ یہاں امجد اسلام امRead more

    • 0
  1. قیام پاکستان کے بعد کے ڈرامو ں میں اسٹیج کی رونقیں بحا ل ہو گئیں اس میں معین الدین نے ہجرت کے دکھ،اور انسانی اقدار کی پاما لی کو طنز ومزاح کے ساتھ پیش کیا، ان کے ڈرامو ں میں ’’تعلیم با لغان‘‘مرزا غالب بندر روڈ پر‘‘ اور ’’لال قلعے سے لا لو کھیت تک ‘‘ بہت نما یا ں ہیں۔فلمی اور ٹیلی ویژن کے اثرات: فلمیRead more

    • 0
  1. انقلاب روس کے بعد ساری دنیا میں فکر کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔بر صغیر پاک و ہند بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔چند دانشوروں نے ترقی پسند تحریک کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس تحریک کے تحت حقیقت نگاری ڈرامے کی روح قرار پائی۔سردار جعفری ،مرزا ادیب اور پروفیسر محمد مجیب نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حRead more

    • 0
  1. مغربی علوم و فنو ن کی زیر اثر یک بابی ڈرامے کی ابتدا ء ہو تی ہے۔اس فن کا فرو غ بھی تراجم سے ہوا۔اس میں امتیا ز علی تاج کے علا وہ ڈاکٹر اشتیا ق حسین کا’’نقش آخر’ ’ شاہد دہلوی کا ’’کھڑکی‘‘ عابد علی عابد،،اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی،،کے نام قابل ذکر ہیں۔ مزرا ادیب بھی اس فن کے بے تاج بادشاہ ہیں ان کو اRead more

    • 0
  1. آغا حشر کے بعد اردو ڈرامے کی مقبولیت پر حکموں نے قبضہ کر لیا ۔لہٰذاڈرامہ تجارت کے ہاتھوں سے نکل کر خلص فنی و ادبی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ اس دور کے فنی و ادبی ڈرامہ نگار ذیل میں درج ہیں جو کہ بہت مشہور ہوئے۔ مولانا عبد الحلیم شرر( شہیدِ فا )۔مولانا محمد حسین آزاد( ڈرامہ اکبر )۔ مرزا ہا دی رسو ا(مرقعRead more

    • 0