Discy Latest Questions

  1. جواب: ماہ انجم رات کے شیدائی ہیں کیونکہ ان کی اپنی پہچان رات ہی سے قائم ہے اس لیے وہ اس کے پرستار ہیں۔

    • 0
  1. جواب: شاعر غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ جب ہر طرف ویرانی سی ویرانی نظر آئے تو وہ اپنے دل پر اختیار کھو بیٹھا اور اسے خرابی پر خوشی محسوس ہونے لگی۔

    • 0
  1. جواب: شاعر دست سوال لے کے محبوب کے در پر جاتا ہے اور وہاں سے خالی ہاتھ واپس آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی کتنا ناداں ہوں ہاتھ پھیلائے وہ بھی کس کے در پر۔ خدا کے حضور میں پھیلائے ہوتے تو بگڑی بن جاتی۔

    • 0
  1. جواب: اس شعر میں شاعر کی اداسی کا سبب اپنے محبوب کی دوری ہے۔ اگر اسے وصال یار ہوتا تو اداسی نہیں رہتی بلکہ لذت دیدار سے مشرف ہوءر اس کے دل کو تسکین ملتی۔

    • 0
  1. جواب: دل بہلانے کی بس یہی ایک صورت شاعر کے نزدیک ہے کہ بیتی ہوئی باتوں کو یاد کیا جائے تاکہ سکون حاصل ہو ورنہ اس دنیا میں سکون غارت ہوا ہے۔

    • 0
  1. جواب: شاعر کے نزدیک ظلمتوں کوحضور اکرم ﷺ کے پر نور جلوۂ انور نے مارا پھر تاریکی غائب ہوگئی اور ساری کائنات میں ایک نیا نور پھیلا جس کے سامنے ساری ظلمتوں نے سر خم کیا۔

    • 0