Advertisement
  1. قدرت اللہ شہاب کا طویل افسانہ "یا خدا" بھی تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔جس میں کہانی کو مناظر میں دکھایا گیا ہے۔قیام پاکستان کے وقت کا مشرقی پنجاب، لاہور کے مہاجر کیمپ اور کراچی۔ افسانے کے پہلے حصے میں افسانوی کردار دلشاد کے ساتھ سکھوں کے کئے گئے مظالم کو بیان کیا گیا ہے۔دوسرے منظر میں مہاجر کیمپRead more

    قدرت اللہ شہاب کا طویل افسانہ "یا خدا” بھی تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔جس میں کہانی کو مناظر میں دکھایا گیا ہے۔قیام پاکستان کے وقت کا مشرقی پنجاب، لاہور کے مہاجر کیمپ اور کراچی۔ افسانے کے پہلے حصے میں افسانوی کردار دلشاد کے ساتھ سکھوں کے کئے گئے مظالم کو بیان کیا گیا ہے۔دوسرے منظر میں مہاجر کیمپوں میں ہونے والی بربریت کو بیان کیا گیا ہے۔جہاں زندہ انسانوں کی بجائے مر جانے والوں کو کمبل نصیب ہوئے اور دوسری جانب مرد کس طرح یہاں سے عورتوں کو گاڑیوں میں بھر کر لے جاتے اور اپنا کام نکال کر چوڑ جاتے۔ تیسرا منظر وسیع القلب شہر کراچی کا ہے یہاں کہانی کی یہی عورتیں باقاعدہ جسم فروشی کا کاروبار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔اس افسانے میں قدرت اللہ شہاب نے عورت کی ٹریجڈی اور بکھرے خوابوں کو دکھا یا ہے۔

    See less
    • 0
  2. تقسیم کے بعد لکھے گئے افسانوں میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ "کھول دو" نہایت اہم ہے۔اس میں ایک ایسے واقعے کی تہہ میں اترنے کی کوشش کی گئی ہے جس کو دیگر لوگ محض ایک منظر کے طور پر دیکھ رہے تھے۔پاکستان داخل ہونے والی سکینہ جسے رضا کار نوجوان محافظ بن کر لے جاتے ہیں۔مگر اس کو زندہ لاش کے طور پر چھوڑ جاتےRead more

    تقسیم کے بعد لکھے گئے افسانوں میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ "کھول دو” نہایت اہم ہے۔اس میں ایک ایسے واقعے کی تہہ میں اترنے کی کوشش کی گئی ہے جس کو دیگر لوگ محض ایک منظر کے طور پر دیکھ رہے تھے۔پاکستان داخل ہونے والی سکینہ جسے رضا کار نوجوان محافظ بن کر لے جاتے ہیں۔مگر اس کو زندہ لاش کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں۔منٹو نے اس افسانے کے پس منظر میں انسان کے اندر چھپے وحشی کو بے نقاب کیا ہے۔ساتھ ہی تقسیم کے وقت ہونے والے مظالم کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

    See less
    • 0
  3. ہاجرہ مسرور کا افسانہ "امت مرحوم" تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔افسانے میں ان زندہ دلوں کا تذکرہ بیان کیا گیا ہے جو مہاجر کیمپوں کو پکنک پوائنٹ سمجھتے تھے۔اور وہ ڈاکٹر بھی جنہیں مہاجرین کی کاہلی کا شکوہ ہے۔

    ہاجرہ مسرور کا افسانہ "امت مرحوم” تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔افسانے میں ان زندہ دلوں کا تذکرہ بیان کیا گیا ہے جو مہاجر کیمپوں کو پکنک پوائنٹ سمجھتے تھے۔اور وہ ڈاکٹر بھی جنہیں مہاجرین کی کاہلی کا شکوہ ہے۔

    See less
    • 0
  4. انتظار حسین کا افسانہ "اجودھیا" بھی موضوع کے اعتبار سے آزادی کے فوراً بعد پیدا ہونے والی کشمکش کی غمازی کرتا ہے۔نئے حالات،نیا ماحول،آدمی می صدیوں پرانی آباؤ اجداد کی جائے پیدائش چھوڑنا، سٹیشن پر لوگوں کا ہجوم،قتل و غارت گیری وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔ماضی کی یادوں سے نڈھال حال سے بے زار اور مستقبل سے ماRead more

    انتظار حسین کا افسانہ "اجودھیا” بھی موضوع کے اعتبار سے آزادی کے فوراً بعد پیدا ہونے والی کشمکش کی غمازی کرتا ہے۔نئے حالات،نیا ماحول،آدمی می صدیوں پرانی آباؤ اجداد کی جائے پیدائش چھوڑنا، سٹیشن پر لوگوں کا ہجوم،قتل و غارت گیری وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔ماضی کی یادوں سے نڈھال حال سے بے زار اور مستقبل سے مایوس آدمی کی کیفیت "اجودھیا” افسانہ میں مجسم صورت میں موجود ہے۔

    See less
    • 0
  5. انتظار حسین کا افسانہ "شہر افسوس" تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔اس کا بنیادی موضوع ہجرت ہے۔افسانے میں جس مسئلے کو موضوع بنا کر پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہجرت کی وجہ سے چھوڑی ہوئی بستیاں کس طرح واویلا کرتی ہیں۔نئی جگہ جہاں جاکر بسا جائے وہاں کا ماحول اور حالات اپنی منشا کے مطابق نہ پا کر جو کرب جنRead more

    انتظار حسین کا افسانہ "شہر افسوس” تقسیم کے بعد لکھا گیا افسانہ ہے۔اس کا بنیادی موضوع ہجرت ہے۔افسانے میں جس مسئلے کو موضوع بنا کر پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہجرت کی وجہ سے چھوڑی ہوئی بستیاں کس طرح واویلا کرتی ہیں۔نئی جگہ جہاں جاکر بسا جائے وہاں کا ماحول اور حالات اپنی منشا کے مطابق نہ پا کر جو کرب جنم لیتا ہے اسے بیان کیا گیا ہے۔

    See less
    • 0
  6. یہ افسانہ اکہرے پلاٹ کا حامل ہے۔جس میں افسانہ نگار دوسرے کردار کے قصے کو کچھ اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ انجام کے وقت وہ خود بھی افسانے کا حصہ بن جاتا ہے۔اکہرے پلاٹ کا حامل ہونے اور ایک ہی کردار کی کہانی ہونے کے باعث افسانے کا پلاٹ منتشر معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ کہانی کو ڈرامائی تشکیل دے کے نہایت خوRead more

    یہ افسانہ اکہرے پلاٹ کا حامل ہے۔جس میں افسانہ نگار دوسرے کردار کے قصے کو کچھ اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ انجام کے وقت وہ خود بھی افسانے کا حصہ بن جاتا ہے۔اکہرے پلاٹ کا حامل ہونے اور ایک ہی کردار کی کہانی ہونے کے باعث افسانے کا پلاٹ منتشر معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ کہانی کو ڈرامائی تشکیل دے کے نہایت خوبصورتی سے بنا گیا ہے۔

    See less
    • 0
  7. بوڑھے کا کردار یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ضعیف آدمی ہے جس کا جسم جھکا ہوا ،ہلکا خم کھایا ہوا،داہنا کاندھا کچھ نیچے اور بایاں ہاتھ کبھی سیدھا کبھی کمر پر رکھا ہوا۔یہ بوڑھا روز صبح پلیٹ فارم پر بیٹھا منتظر نظروں سے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتا رہتا ہے۔اس کی نگاہیں کسی کی کھوج میں رہتی ہیں۔وہ کھوج گزرتRead more

    بوڑھے کا کردار یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ضعیف آدمی ہے جس کا جسم جھکا ہوا ،ہلکا خم کھایا ہوا،داہنا کاندھا کچھ نیچے اور بایاں ہاتھ کبھی سیدھا کبھی کمر پر رکھا ہوا۔یہ بوڑھا روز صبح پلیٹ فارم پر بیٹھا منتظر نظروں سے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتا رہتا ہے۔اس کی نگاہیں کسی کی کھوج میں رہتی ہیں۔وہ کھوج گزرتے وقت کی کھوج ہے۔

    See less
    • 0
  8. افسانے کے تناظر میں 'اب موت نہیں زندگی مایوس جرتی ہے' سے مراد ہے کہ موت کی تو ایک اٹل حقیقت ہےمگر زندگی نے جس طرح اپنا انداز اور رنگ ڈھنگ بدلا ہے وہ تکلیف دہ ہے اور یہ بدلاؤ کہانی کے کردار کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

    افسانے کے تناظر میں ‘اب موت نہیں زندگی مایوس جرتی ہے’ سے مراد ہے کہ موت کی تو ایک اٹل حقیقت ہےمگر زندگی نے جس طرح اپنا انداز اور رنگ ڈھنگ بدلا ہے وہ تکلیف دہ ہے اور یہ بدلاؤ کہانی کے کردار کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

    See less
    • 0
  9. اس جملے کے ذریعے بوڑھا شخص نوجوان کو زندگی کے ان تجربات کا نچوڑ بتانا چاہ رہا ہے جو اس بوڑھے شخص کی زندگی میں وقت کے تسلسل کی دین ہیں۔

    اس جملے کے ذریعے بوڑھا شخص نوجوان کو زندگی کے ان تجربات کا نچوڑ بتانا چاہ رہا ہے جو اس بوڑھے شخص کی زندگی میں وقت کے تسلسل کی دین ہیں۔

    See less
    • 0