کیا ہم اپنی تخلیق یہاں شائع کرواسکتے ہیں

کیا ہم اپنی تخلیق یہاں شائع کرواسکتے ہیں

2 Answers

  1. ****ماب لنچنگ*****

    سہما ہوا ہوں اور بہت تھک گیا ہوں ابھی ذرا مجھے بیٹھنے دو اور تھوڑا پانی پلا دو ۔ میں نے گھبراتے ہوئے اپنے گھر پر پہنچتے ہی کہا ….
    کیا ہوگیا ایسا ؟ آپ تو ایسا کر رہے ہیں جیسے معلوم نہیں کیا ہوگیا ہو ، کوثر نے مجھے ٹوکا ۔ کوثر میرا چھوٹا بھائی ہے یہ مجھے بہت عزیز ہے ۔ وہ مجھ سے کافی مختلف ہے ۔ وہ یہ سب نہیں سوچتا جو میں سوچتا ہوں وہ سب دیکھتا ہی نہیں جو میں دیکھتا ہوں ۔ وہ مجھے ایسی حالت میں دیکھ کر بھی گمان کرنے سے قاصر رہا کہ بات کیا ہوگی ۔ وہ یہی سوچا کرتا تھا کیسی ہی بات ہو بھائی مجھے تو بتائیں گے نہیں ۔ اسی لئے چبھتی ہوئی بات کرتا تھا کہ کسی طرح بات معلوم کرلوں ۔
    اچانک ابّو بھی بالکل میری ہی صورت گھبرائے ہوئے گھر میں داخل ہوئے ‌ انکی آنکھوں میں کوئی پریشانی اور پیشانی پر پسینے کے قطرات تھے ۔ ان کے بھی لب پیاس سے سوکھے ہوئے تھے ۔ وہ کسی سے گویا ہوئے بغیر بیٹھ گئے ۔ کوثر کے چہرے سے ظاہر تھا کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر ہو کیا رہا ہے …
    ابّو کی عادت ہے وہ ہمیشہ موبائیل پر خبریں سنا کرتے ہیں اور ہمیشہ تازہ ترین خبروں پر نظر رکھتے ہیں وہ خبر سننے لگے خبر سن کر کوثر کو باتیں کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھیں ۔ اس نے سنا کہ ابّو جس روزگار سے منسلک ہیں یعنی گائے کے گوشت کی دکان میں دکانداری کیا کرتے ہیں وہ کام بہت جلد ختم ہونے والا ہے ۔ پولس دوکانوں کو سیل کر رہی ہے اور دوکانداروں کو حراست میں لے رہی ہے … کوثر کو میری اور ابّو کی حالت کے سبب کا اندازہ ہونے لگا ‌۔ پر اسے کیا خبر تھی کہ معاملہ تو اور ہی زیادہ سنگین ہے ۔
    چند روز سے یہی کشمکش حالات ہیں ۔ بیزارگی اور دشمنی کا حال تو ایسا ہے کہ دو قوم آپس میں شیر اور ہرن کا کھیل کھیلنے پر آمادہ ہیں ۔ اسی کھیل میں خود کو شیر سمجھتے ہوئے کچھ انسان نما لومیڑیوں نے کچھ ہرنی جیسے بھولے لوگوں کا شکار کیا اور معصوموں کو کہیں کا نہ چھوڑا .. ہوا یوں کہ ہمارے علاقے میں گائے کے گوشت کی قانونی تجارت ہوتی ہے ۔ یہاں اس کی تجارت سے سیکڑوں اور پورے ملک میں ہزاروں لاکھوں سے زیادہ لوگوں کا گھر چل رہا ہے ۔ میرے ابّو خود کئی سالوں سے اسی روزگار سے جڑے ہوئے ہیں اور ہم سب اسی سے پرورش پا رہے ہیں ‌۔ ابّو کی دکان کے آس پاس کی دکانوں میں سے چند لوگ گائے کی خرید کیلئے گائے کے ہاٹ گئے ہوئے تھے ان میں سے اسلم ، اکبر ، جمن اور شوکت سب ساتھ تھے ان کے ہمراہ ایک بڑی لاری اور اس کا ڈرائیور رامو بھی تھا ۔ یہ سارے گائے خرید کر لاری میں سوار کرکے ہاٹ سے لوٹ رہے تھے ۔ تو راستے میں کچھ ہندو آتنک وادی غنڈے اور ملک کی یکتا کے دشمن نکل آئے اور لاری کو روکا ۔ روکتے ہی سب کو اترنے کو کہنے لگے ‌۔ وہ سب اپنے ہاتھوں میں لاٹھی اور ہتھیار لئے ہوئے تھے ۔ ان کی صورت دیکھ کر لاری میں بیٹھے سارے لوگ اور ڈرائیور گھبرائے کیونکہ ملک کی حالت بھی ناگوار تھی ، آئے دن بری خبریں سننے کو مل رہی تھیں ‌‌۔ سب یہی سوچ کر لاری سے اترنے سے کترارہے تھے ‌۔ ان میں سے ایک نے ڈارئیور کے قریب جا کر لاری کی چابی نکال لی ۔ پھر کچھ غنڈے لاری کے اوپر چڑھ گئے اور اسلم ، اکبر کو پکڑ کر نیچے اتار لائے اور ان پر سلاخوں سے ضربیںِ لگانے لگے ۔ یہ دیکھ کر جمن شوکت اور ڈرائیور لاری سے نکل کر چھپنے لگے ، آخر کر بھی کیا سکتے تھے غنڈوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔ ان لوگوں نے اسلم اور اکبر پر بہت مار لگا ئی اور انکی حالت بد سے بد تر ہوگئی ۔ غنڈوں میں سے کچھ نے جمن ، شوکت اور ڈرائیور کو تلاش کیا اور کہنے لگے تم ، ہاں تم لوگ ہماری ماتا کو کھاتے ہو نا ۔ آج ہم تم لوگوں کو کھائیں گے ‌۔ یہ کہہ کر وہ ظالم سب پر ٹوٹ پڑے اور بہت مارا ۔ سب موت کی چوکھٹ تک پہنچنے سے پہلے بے ہوش چکے تھے ‌‌۔ آتنک وادی انہیں مردہ سمجھ کر چلے گئے ۔ مگر ڈرائیور رامو میں کچھ جان باقی تھی جو سانس روکے پڑ ا تھا ‌۔ وہ ہمت کرکے اٹھا اور سب کو کسی طرح گاڑی پر لاد کر محلے میں لے آیا ۔ پر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ‌ ڈرائیور کے آتے ہی آتے کتنے گھروں کے بچے یتیم ہوگئے تھے کتنی ہی ماؤں کے آنکھوں کے تارے کی روشنی بجھ چکی تھی ‌۔ کتنی ہی بہنیں اپنے بھائیوں کو کھو چکی تھیں ۔ انسان مر گئے تھے ، گائیں لاری میں زندہ کھڑی تھیی جبکہ ان کو بیچنے اور خریدنے والوں نے ذبح کرنے کے لئے ہی مناسب سمجھا تھا۔
    رامو نے محلے میں پہنچی ہوئی پولیس کو اپنا بیان لکھوا دیا تو داروغہ جی نے کڑک کر مُردوں کے وارثین سے پوچھا: تم لوگوں کے پاس اپنے کاروبار کے لائسینس ہیں۔ سب دوڑے دوڑے اپنے گھروں میں گئے اور لائسینس لاکر دکھا دئے ۔ رام مسکرا کر بولا ۔ بابو جی اس وقت جبکہ ان کے گھروں میں میتیں رکھی ہیں ان کے لائسینس دیکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔ داروغہ جی نیچے ہی نیچے مسکرا دئے۔
    اُدھر لاری میں کئی گائیں رینکنے لگیں۔ وہ اپنے زندہ ہونے کا اعلان اور بھوکی پیاسی ہونے کی شکایت کر رہی تھیں۔ ابو نے جلدی سے کہا دیکھو وہ گائیں بے چاری ابھی تک لاری میں ہی بند بھوکی پیاسی ہیں۔ کئی قصائی اس طرف دوڑے گایوں کو نیچے اتارا اور چارہ پانی دیا۔
    رامو اپنی لاری لے کر جانے لگا تو اکبر نے اس سے کہا ان شاءاللہ ہم تمہارا حساب کل کر دیں گے۔ رامو جو اب تک بڑے صبر وتحمل سے کام لے رہا تھا اور صبر نہ کر سکا ۔ وہ اکبر سے لپٹ گیا اور بابو جی بابو جی کہتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ تھوڑا قرار آیا تو بولا بابو جی آج جنکو بچانے کی خاطر میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ تیز لاری چلائی پھر بھی بچا نہ سکا۔ وہ سب میرے اچھے دوست تھے ۔ کیا اب میں ان کی میتوں پر کمائی کروں گا ؟

    شہباز خالدؔ کلکتوی
    طالبِ علم مولانا آزاد کالج (بے-اے)

    • 1
  2. جی ہاں۔

    آپ اپنے لکھے ہوئے آرٹیکل یہاں خود شائع کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو ادب سے متعلق سوالات وجوابات بھی خود پوسٹ کرسکتے ہیں۔

    • 0