ڈرامے کے ارتقاء میں آغا حشر کا شمیری کا حصہ

1 Answer

  1. اردو ڈرامہ ابھی احسن لکھنوی ، پنڈت نرائن بیتاب دہلوی اور طالب بنارسی کی نگارشات کی زد میں تھا ۔سارا ہندوستان ان کے رنگ و آہنگ میں مست تھا۔ کہ ڈرامے کی دنیا میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جس کی روشنی سے دیگر تمام ستاروں کی روشنی ماند پڑ گئی۔

    یہ شخص اردو ڈرامے کا شیکسپئر آغا حشر کاشمیری تھا۔جس نے شیکسپئر کے ڈراموں کو اس خوبصورتی سے اردو میں ڈھالا کہ اس کی روح بھی قائم رہی اور اس میں مشرقی تمدن بھی سما گیا۔ ان کے ڈراموں کی فہرست طویل ہے ،مگر مشہور ڈرامے درج ذیل ہیں:

    سفید خون ۔۔خوبصرت بلا ۔۔ آنکھ کا نشہ۔۔ ترکی حور۔۔ میرِ ہوس۔۔ یہودی کی لڑکی ۔۔ بلوا منگل عرف بھگت سور داس ۔۔ نعرہ توحید۔۔ سنسار چکر۔۔رستم سہراب۔ ’’آفتابِ محبت ‘‘ ان کا پہلا ڈرامہ ہے جو احسن لکھنوی کے چیلینج پر لکھا۔ انکا پہلا کمرشل ڈرامہ ’’ مرید شک ‘‘ ہےجو الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کیلئے لکھا جس کے مالک کاوس جی کھٹاؤ تھے۔

    ان کا سب سے پہلا ہندی ڈرامہ’’ بلوا منگل عرف بھگت سور داس ‘‘ہے جو اپنی اشتراکی کمپنی انڈین شیکسپئر تھیریٹیکل کمپنی کیلئے لکھا۔اس کمپنی کی بنیاد راجہ راگھو راؤ کی شراکت میں ۱۹۱۰ میں ڈالی تھی۔ ان کا پہلا مجلسی ڈرامہ سلور کنگ عرف نیک پروین تھا جو ۱۹۱۰ میں اسٹیج کیا گیا تھا۔

    • 0