نظم کی تعریف مختصراً بیان کیجیے۔

نظم کی تعریف مختصراً بیان کیجیے۔

1 Answer

  1. نظم کے لغوی معنی موتی پرونا ، آراستہ کرنا وغیرہ کے ہیں۔ شاعری کی دیگر تمام اصناف کے علاوہ خود نظم بھی ایک صنف شاعری ہے جو نظم کے مروجہ قسموں پر ہی لکھی جاتی ہے۔ مگر اس میں اشعار یا بند کی کوئی قید روا نہیں رکھی جاتی۔ یہ نظم کسی خاص موضوع پر ہوتی ہے خواہ وہ موضوع کچھ بھی ہو۔

    نظم کا میدان غزل سے زیادہ وسیع ہے۔ نظم کسی ایک عنوان یا موضوع کی تفصیل ہوتی ہے۔ غزل کے جذبات محدود ہوتے ہوئے بھی محدود ہوتے ہیں اور اس میں کوئی جذبہ نظم کیا جاتا ہے۔ مگر نظم میں ایک ہی موضوع کی اتنی وضاحت ہوتی ہے کہ شاعر اور سامع دونوں اسیر ہو جاتے ہیں اور موضوع بھی تشنہ نہیں رہتا۔

    نظم ترتیب و تنظیم اور ربط و تسلسل کے لحاظ سے مختصر ہوتی ہے۔ انسانی حیات میں بھی اک تسلسل ہوتا ہے جس میں بلندیاں بھی ہوتی ہیں اور پستیاں بھی۔ ایک بہتا ہوا سیال اور موج دریا جس میں طغیانی بھی آتی ہے اور تلاطم بھی آتے ہیں۔ انسان کی ہر سانس اہم اور قیمتی ہوتی ہے مگر یہ نفس جب مسلسل چلنے لگتا ہے تو حیات کسی حد معتبر اور اہم ہو جاتی ہے، بے یقینی میں یقین پیدا ہو جاتا ہے۔ نظم بھی اسی طرح کا تسسلسل اور نظم و ضبط چاہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ عمدہ اور کامیاب نظمیں دل اور دماغ کو آسودگی، فرحت بخش اطمینان اور ایک امبساط انگیز کیفیت عطا کرتی ہیں۔

    نظم کے تمام اشعار موضوع سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے اندر تدریجی وارتقائی تناظر پایا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ شاعر کے تجربات وتصورات کی انسانی حیات کی طرح نشونما ہوتی رہتی ہے۔ اردو شاعری کے اندر اگر چہ نظیر اکبرآبادی نے نظم نگاری کی ابتدا کی تھی مگر صحیح معنوں میں اس کی ترقی آزاد ،حالی ،اسماعیل میرٹھی،اور درگاسہائے سرور کے ہاتھوں ہوئی اور اسے کمال تک اقبال نے پہنچایا۔

    اکبر نے طنر وظرافت کی رنگارنگی سے اردو نظم نگاری کو گلہائے رنگا رنگ کا ایک حسین گلدستہ بنا دیا۔ غرض بیسویں صدی کے آغاز ہی میں جدید نظم نگاری نے کافی ترقی کر لی۔ نظم طباطبائی،ظفر علی خان ،تلوک چند محروم ،جوالا پرشاد برق،علامہ اقبال ،عظمت اللہ خان ،سیماب اکبر آبادی ،جوش ،حفیظ جالندھری ،احسان دانش وغیرہ کامیاب نظم نگار شاعر ہیں۔

    دور جدید کے مشہور نظم نگاروں میں فراق ،ساغر نظامی ،مجاز ،علی سردار جعفری ،اخترالایمان ،کیفی اعظمی ،وغیرہ اہم ہیں۔ اس دور کے بعض شعرا نے موضوع کے علاوہ نظم کی ہیئت میں بھی انقلاب پیدا کر نے کی کوشیش کیں۔ نظم معریٰ اور ازاد نظم بھی کثرت سے لکھی گئی۔ دور حاضر میں خلیل الرحمن اعظمی ،وزیر آغا،مظہر امام ،بلراج کومل ،شہریار ،ندافاضلی ،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ نے نظم نگاری کو ایک نئی جہت دی ہے۔

    • 0