سوال: مصنف نے کہانی کے آخری حصے میں کال کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا ہے اور کیوں؟

سوال: مصنف نے کہانی کے آخری حصے میں کال کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا ہے اور کیوں؟

1 Answer

  1. جواب: مصنف نے کہانی کے آخری حصے میں کال کا ذمہ دار خود آدمی ہی کو ٹھرایا ہے کہ آدمی ان خود اپنے خون پسینے سے اگاتا ہے اور اگر آدمی آدمی کا خون چوسنا چھوڑ دے تو سارے سنسار کی کایا ہی پلٹ جائے۔ کال تو پہلے بھی پڑتے تھے لیکن غریبوں کے لیے ہمیشہ ہی کال پڑا رہتا ہے۔ کیونکہ سرمایہ دار پورا اناج اپنے قبضے میں رکھتے ہیں اور غریبوں کا خون چوستے رہتے ہیں۔ اس کہانی میں مصنف نے کال کا ذمہ دار خود آدمی کو ہی ٹھہرایا ہے کہ اگر وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں تو دنیا سے غریبی اور بدحالی مٹ سکتی ہے۔

    • 0