سوال: غزل کی تعریف مختصراً بیان کیجیے۔

1 Answer

  1. غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔ یہ سب سے مقبول صنف کے طور پر سامنے آئی ہے اگرچہ اس کی لغوی معنی عورتوں سے متعلق باتیں کرنا ہے، مگر موضوع کے لحاظ سے یہ بہت وسیع المعنی ہے۔ ہیئت کے اعتبار سے غزل کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں جو غزل کا مطلع کہلاتا ہے۔ بعض غزلوں میں ایک سے زیادہ مطلعے ہوتے ہیں۔

    مطلع کے بعد کا شعر مطلع کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔ غزل میں قافیہ کے ساتھ ردیف بھی ہوتا ہے۔ غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، مقطع کہلاتا ہے۔بظاہر غزل کی ہیئت انہیں عناصر پر مشتمل ہوتی ہے لیکن ساتھ ساتھ الفاظ کا صحیح استعمال ، اندازبیان، طرز ادا ،رمزوکنایہ ،موسوقی اور عنایت اور داخلیت اور خارجیت سے متعلق تمام باتیں غزل کی ہیئت سے تعلق رکھتی ہیں۔

    غزل ایک ہمہ گیر صنف ہے۔ عام طور پر اس میں عشق و محبت کی واردات اور کیفیات کا بیان ہوتا ہے لیکن اس کا دامن بہت وسیع ہے۔ جدید دور کی غزل کا موضوع صرف عشق شمع و پروانہ تک محدود نہ رہا بلکہ اس میں ہر طرح کے موضوعات کو بیان کیا جا سکتا ہے چاہے وہ عشق سے متعلق ہوں یا سیاست سے متعلق ہوں۔ سب سے پہلے جو غزل گو شعراء ہمارے سامنے آئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں امیر خسرو، قلی قطب شاہ، غالب ،ولی، سودا ،آتش، اقبال اور فیض وغیرہ۔ اس کے علاوہ جدید دور میں خلیل الرحمن اعظمی، ندافاضلی ،شہریار، ظفراقبال اور بشیر بدر جیسے شاعر اس صنف کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہیں۔

    • 0