سوال : بوڑھے نے مضمون نگار کو اپنی جو بپتا سنائی اس کو مختصر طور پر لکھیے۔

1 Answer

  1. جواب : بوڑھے نے مضمون نگار کو کہا کہ میں مرزا بابر کا بیٹا ہوں۔ جب غدر پڑا تو بادشاہ وغیرہ تو مقبرہ ہمایوں گئے لیکن میں نے اپنے دوست کی طرف کرنال کا رُخ کیا۔ میرے ساتھ میری نابینا والدہ بھی تھیں۔ ہم چلتے رہے اور دشواریوں کا سامنا کرتے کرتے رات کو ایک گاؤں میں قیام کیا۔ وہاں کے لوگوں نے سویرے ہمیں لوٹ لیا اور مجھے بےہوش کر کے میری والدہ کے ساتھ جنگل میں چھوڑ آئے۔ ہم وہاں سے چلنے لگے لیکن ہم دو وقت سے بھوکے تھے اور جنگل میں جھاڑیاں بےشمار تھیں، دوپہر کے وقت میں بےہوش ہونے لگا۔ وہاں ایک گنوار آگیا اور ہم سے سامان مانگنے لگا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہ تھا، اس نے مجھے مار کر بے ہوش کردیا اور میرے اور والدہ کے کپڑے اتار کر لے گیا۔ جب مجھے ہوش آیا میری والدہ دم توڑ رہی تھیں۔ میں نے انھیں وہیں دفنایا اور ایک جگہ درخت کے نیچے جا کر لیٹ گیا۔ وہاں سے ایک فوجی سوار گزر رہا تھا، وہ میرا حال سن کر مجھے اپنے ساتھ چھاؤنی لے گیا اور میرا علاج کروایا۔ میں اس کے ساتھ کچھ دن مٹیالے میں رہا پھر شہر در شہر پھرنے لگا۔ جب بمبئی پہنچا تو ایک قافلے کے ساتھ مکہ چلا گیا، وہاں دس برس گزارے پھر مدینے میں پانچ برس گزارے۔ پھر دو سال بغداد میں کاٹے اور وہاں سے دہلی چلا آیا۔ پھر میں نے مزدوری شروع کردی اور پھر پیسے بچا بچا کر ٹھیلا بنالیا اور اب اسی پر میرا گزر ہوتا ہے۔

    • 0