سوال: اس کہانی کا عنوان ’سخی ‘ کیوں رکھا گیا ہے؟

1 Answer

  1. جواب: مولا بخش نے ساٹھ روپے مصنف کو اپنی بیوی کو بھجوانے کے لیے دیے تھے لیکن ان پیسوں سے مصنف نے شیر مال کباب وغیرہ کھالیے اور منی آرڈر فارم کو پہلے ہی سنیما کے سامنے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک چکا تھا۔ اب کھانے کے بعد جیب میں بائیس روپے بچے تھے۔ وہاں سے نکلا اور زکریا اسٹریٹ کے دروازے کے باہر ایک لاش پڑی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک نوجوان آدمی یہ آواز لگا رہا تھا کہ کوئی اس غریب انسان کے کفن دفن کے لئے پیسے دے کر ثواب حاصل کرے۔ افسانہ نگار جب وہاں پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ یہ لاش تو مولا بخش کی ہے۔ اور وہ نوجوان آدمی اسے بتاتا ہے کہ اس کی موت ٹرک سے کچل جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔کہانی کا ہیرو کہتا ہے کہ یہ سن کر میں چکرا گیا اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو جیب میں بائیس روپے کچھ آنے بچے تھے وہ مولا بخش کی لاش پر پھینک کر جلدی جلدی جانے لگا اور وہ نوجوان جو وہاں موجود تھا ، وہ مجھے گھورنے لگا کہ یہ آدمی کوئی سخی ہے جو اپنے پیسے ایسے دے رہا ہے۔ اس لیے مصنف نے اس کہانی کا نام سخی رکھا۔

    • 0