سوال: اس نظم کا ماحصل اپنے لفظوں میں لکھے۔

1 Answer

  1. جواب: ”پری محل“ شہ زور کاشمیری کی ایک خوبصورت نظم ہے۔ اس نظم میں شاعر نے یہاں کی صبح شام ،باغات کوہسار، فضا ،گل و بلبل، ڈل ، نظارہ، رونق ، پری محل ، کوہ سبز ،سبز جھاڑی اور چمن کے بارے میں اپنے اظہار خیالات پیش کیے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے یاد ہے وہ وادی کشمیر کا موسم بہار جب ہر چیز اپنی جان میں ہوتی ہے۔ جب یہاں فضاؤں میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور اس طرح کا نظارہ دیکھ کر میرے دل کو سکون محسوس ہوتا ہے۔

    شاعر اس نظم میں اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ کشمیر کی ہر چیز سے انہیں بہت زیادہ لگاؤ ہے، چاہے وہ ڈل جیل ہو یا کوہ سبز ہر ایک چیز شاعر کے دل کو فرحت اور سکون عطا کرتی ہے۔ جس کے لیے وہ اپنے وطن کی عقیدت سینے میں بسائے ہوئے ہیں۔کبھی شاعر اسے دلہن کا لقب دیتا ہے اور کہیں جنت کے گلاب سے بھی تشبیہ دی ہے جس کو پڑھ کر قاری خوشی محسوس کرتا ہے۔

    • 0