سوال: اس غزل کے تیسرے اور پانچویں شعر کی تشریح کیجیے۔

سوال: اس غزل کے تیسرے اور پانچویں شعر کی تشریح کیجیے۔

1 Answer

  1. جواب : اس غزل کے تیسرے شعر میں شاعر باغ باں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ باغ میں گُل کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ تم کانٹوں کو ان کے باغ سے مت نکالو، دراصل شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ ملک تمام لوگوں کا ہوتا ہے اور انگریز جیسے لوگوں کو ملک سے دربدر کررہے تھے تو وہ چاہتے تھے کہ انگریز ایسا نہ کریں۔

    اس غزل کے پانچویں شعر میں شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں کہ ظفر تم کتنے بدنصیب ہو کہ جس ملک میں تم نے حکمرانی کی اب وقت یہ آگیا ہے کہ اسی ملک میں تمھارے لیے دو گز زمین کی جگہ بھی نہیں ہے کہ تم مرنے کے بعد اپنے ملک میں دفن ہوسکو۔ اب تمھیں مرنے کے بعد یہیں دیارِ غیر میں دفن ہونا پڑے گا اور تم مرتے وقت بھی اپنوں سے دور ہی رہو گے۔

    • 0