سوال: اس بند کی وضاحت کیجئے۔ ” کوہ سبز پوش پر ہے و صوفگن قصر زری طور کی بجلی ہے گویا محو جلوہ گستری سبز جھاڑی میں ہے بیٹھی کوئی رنگین تیتری یا زمرد زار میں ہے رقص فرما اک پری چاند اترا ہے فلک سے سر زمین حسن پر ثبت ہے یا قشقہ رنگیں جبیں حسن پر “

1 Answer

  1. جواب: اس بند میں شاعر کشمیر کی دلکشی اس طرح بیان کر رہا ہے کہ پری محل کی سبز پہاڑی پر روشنی کے سائے میں ایک سونے کا بنا ہوا محل نظر آرہا ہے۔ جس میں کوہ طور پر بجلی جیسا سماں ہے۔ اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پری بناؤ سنگھار کر کے سامنے آرہی ہے۔ اور پھر اس محل کی سبز جھاڑیوں میں رنگین تیتریوں کا گانا اور قیمتی پتھر سے رقص کرنا ایک نیا لطف پیدا کر رہا ہے۔ اور ایسے منظر میں جب شام کے وقت چاند آسماں سے زمین پر اتر رہا ہو تو اس کی دلکشی اور بھی دوبالا ہو جاتی ہے۔ جس طرح ایک پری کے ماتھے پر ٹیکا لگایا جائے تو اس کی خوبصورتی کی کوئی دوسری مثال نہیں بالکل وہ نظارہ بھی ایسا ہی ہے جس کو دیکھ کر ہر کوئی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

    • 0