سوال: اختر الایمان کی ادبی جہات مختصراً بیان کیجیے۔

1 Answer

  1. جواب: اختر الایمان کی ولادت 1915 میں نجیب آباد ضلع بجنور میں ہوئی۔ ان کے والدین کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔ کمسنی میں ہی انہیں گزر بسر کے لیے دہلی آنا پڑا۔ یہاں ایک یتیم خانے میں داخلہ لیا اور ایک عرصے تک یہیں زندگی بسر کی۔ یہ زمانہ ان کی زندگی کا سب سے خراب اور تکلیف دے زمانہ تھا۔ مگر اسی زمانے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی میں نور اور بکھیر دیا اور ان کو ایک زبردست شاعر بنا دیا۔

    دہلی کے گلی کوچوں سے گزرتے وقت اکثر ایک بھورے بالوں والے اشفاق کا سامنا ہوجاتا تھا یہ شاعر تھا۔ اور گا گا کر اپنا مجموعہ کلام فروخت کرتا تھا، جو چار چھ صفحوں سے زیادہ نہ تھا۔ اس کلام سن کر اخترالایمان کو خیال آیا کہ ایسے اشعار تو میں بھی کہہ سکتا ہوں۔ اور اس طرح وہ شعر گوئی کی طرف مائل ہو گئے۔

    شروع میں وہ غزل کہتے تھے اور اس زمانے کی دلی کا ماحول غزل گوئی کے لیے سازگار تھا۔جامع مسجد کے سامنے اور ایڈورڈ پاک میں اس زمانے کو سن رسیدہ شاعروں اور ان کے شاگردوں کی ٹولیاں آپس میں زور آزمائی کرتی تھیں۔ مصروں پر گرہیں لگائی جاتی تھی اور شعروں پر اصلاح دی جاتی تھی۔

    اختر الایمان ایک علامتی شاعر ہیں اس لئے ان کی غور وفکر کا ان کی شاعری کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ ان کی چھوٹی سی چھوٹی نظموں میں شدت اور احساس پوری طرح جلوہ گر ہے۔ ”یا دیں اور بنت لمحات“ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ مشہور نظم ”ایک لڑکا“ ان کی سب سے مقبول نظم ہے۔ اس نظم میں اس کشمکش کا ذکر ہے جس میں وہ بچپن میں مبتلا تھے۔ آخر کار 1996ان کا انتقال ہوا۔

    • 0