اپنے اصول پر قائم رہنے کا فائدہ: ایک تحریر

اپنے اصول پر قائم رہنے کا فائدہ: ایک تحریر

1 Answer

  1. This answer was edited.

    تاریخ نے ہمیشہ اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کے حصول کے لیے کیا کیا نہیں کرتے۔ کرسی کے لئے کیا کیا نہیں کرتے اور پھر کرسی کے حصول کے بعد اس پر تا حیات برقرار رہنے کے لئے کیا کیا جائز و نا جائز حربے استعمال نہیں کرتے۔ اپنے اصول، اپنی شخصیت، اپنے کردار اور اپنی عزت وناموس تک کو داؤں پر لگادیتے ہیں۔ در اصل یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی عہدہ ومنصب کے اہل ہی نہیں ہوتے۔ کسی کرسی کا استحقاق رکھتے ہی نہیں۔ کرسی انہیں عزت دیتی ہے انہیں شرف بخشتی ہے لیکن حب وہ کرسی سے اترتے ہیں تو کیڑے مکوڑوں کی طرح بے نام ونشاں بن جاتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس ہر دور اور ہر سماج میں کچھ ایسے زندہ کردار رہے ہیں جنہوں نے اپنے اصولوں کے مقابلے میں کرسی کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ اپنے اصولوں کو کبھی کسی عہدے کی گھاٹ پر قربان نہیں کیا۔ اپنے علم، مقام ومرتبے، کردار اور شخصیت سے ہمیشہ اپنے عہدے کو نکو نام کیا۔ ڈاکٹر طه حسین بھی انہیں شخصیتوں میں سے ایک تھے۔ ان کے افکار ونظریات کی تائید وتردید سے قطع نظر مقصود یہ ہے کہ حکومت وقت نے ایک حکم نامہ صادر کرکے آرٹس فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر طه حسین سے کہا کہ وہ فلاں اور فلاں سیاسی شخصیات کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کی سفارش کردیں۔ طه حسین کی غیرت نے اس حکم نامے پر دستخط کے بجائے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔حکومت کی تبدیلی کے بعد ان کے عہدے کو بحال کردیا گیا۔ مشہور مصری ادیب احمد امین اور طه حسین کے دوست بھی انہیں میں سے ایک تھے جنہوں نے کرسی کو کبھی اپنی شان نہیں سمجھا۔ نہ اس سے چپکے رہنا اپنی شخصیت کا اعزاز سمجھا۔ انہوں نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ جب وہ آرٹس فیکلٹی کے ڈین تھے تو اس وقت کے وزیر تعلیم نے ان کی فیکلٹی میں کچھ ایسے تصرفات کیے جن میں ان کی رائے نہیں لی گئی۔ انہوں نے اس پر احتجاج کیا مگر لا حاصل۔ اس کے بعدانہی کی فیکلٹی کے کچھ اساتذہ کو ان کی اجازت کے بغیر اسکندریہ یونیورسٹی منتقل کیے جانے کا حکم نامہ صادر کر دیا گیا۔ وزیر تعلیم کے اس آمرانہ حکمنامے کے بعد انہوں نے اپنی ڈین شپ سے استعفیٰ دے دیا جسے قبول کرلیا گیا۔ استعفیٰ کے بعد ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا ”انا أکبر من العمید وأصغر من الاستاد“ یعنی میں ڈین سے درجہا بڑا ہوں مگر استاد کے مرتبے سے کہیں چھوٹا ہوں۔ یہ میرے بچپن کاواقعہ ہے لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ اترپردیش میں الیکشن تھا۔ ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے نمائندے ہمارے گھر والد صاحب کے پاس تشریف لائے تاکہ ان کا ووٹ اور سپورٹ حاصل کرسکیں۔ اس امیدوار کے سسر یوپی کے وزیر اعلی تھے اور قوی امید تھی کہ ان کی پارٹی کے جیتنے کے بعد ایک بار پھر وہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ انھوں نے کہا مولانا آپ ہمیں سپورٹ کریں آپ کے دونوں بیٹوں حماد انجم اور سہیل انجم کو سرکاری نوکری دلا دی جائے گی۔آپ جانتے ہیں میرے سسر وزیر اعلیٰ ہیں۔ ابا نے کہا حماد انجم اور سہیل انجم کے رزق کا ذمے دار وہ ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔میں آپ کی پارٹی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ اور وہ صاحب خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے اور ہار بھی گئے۔اس واقعے کو تفصیل سے میں نے نقوش جاوداں میں ذکر کیا ہے۔ در اصل علم بے نیازی سکھاتا ہے۔آدمی جس قدر علم کے بحر زخار کی شناوری میں مہارت حاصل کرتا ہے اس کے سامنے سارے عہدہ ومنصب، دنیاوی جاہ وحشمت، مقام ومرتبے کوتاہ قد نظر آتے ہیں۔ تاریخ نے ایسے بے شمار علماء کی سرگزشتوں کو محفوظ رکھا ہے جنہوں نے کبھی بھی دنیاوی عہدہ ومراتب اور جاہ وحشم کو در خور اعتنا نہیں سمجھا اور وہ پوری تندہی کے ساتھ علم وادب کی خدمت میں مصروفِ عمل رہے۔ آج ایسے ہی علماء کا نام اور کام زندہ ہے۔باقی عہدہ ومنصب والے بے نام ونشان ہوکر رہ گئے۔ رہے نام اللہ کا!!!

    از تحریر : ڈاکٹر شمس کمال انجم ﴿صدر شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری﴾

    • 0