اللّٰه تبارک وتعالیٰ کو ‘میاں’ کہنا کیسا ہے؟

اللّٰه تبارک وتعالیٰ کو ‘میاں’ کہنا کیسا ہے؟

1 Answer

  1. This answer was edited.

    اللّٰهُ  عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ  ’’میاں‘‘ کا لفظ بولنا ممنوع ہے۔ اللّٰہ پاک، اللّٰهُ تعالیٰ، اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ اور اللّٰهُ تبارَکَ وَ تعالیٰ وغیرہ بولنا چاہئے۔ میرے پیارے پیارے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالیٰ عَلَیْهِ فرماتے ہیں:  (اللّٰهُ تبارک وتعالیٰ کے لئے) مِیاں کا اِطلاق نہ کیا جائے (یعنی نہ بولا جائے ) کہ وہ تین معنیٰ رکھتا ہے، ان میں  دو(۲)  ربُّ العزَّت کے لئے مُحال(یعنی ناممکن) ہیں، مِیاں یعنی آقا اور شوہر اور مرد و عورت میں   زِنا کا دلال، لہٰذا اِطلاق مَمنوع۔ ( فتاوٰی رضویہ) نوٹ۔یاد رکھیں بندے کا ادب الگ ہے اور اللّٰهُ تبارَکَ وَ تعالیٰ کا ادب الگ ہے۔ لفظِ میاں بندے کے ادب کے لئے آتا ہے بندے کے لیے نہیں۔ جس طرح بندے کا ادب کرتے ہیں ویسے اللّٰهُ ربُّ العزّت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب نہیں کرنا چاہیے۔ ازقلم العاجز الحقیر محمد وسیم القادری جلالی مغل جموں وکشمیر ضلع راجوری انڈیا

    اللّٰهُ  عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ  ’’میاں‘‘ کا لفظ بولنا ممنوع ہے۔ اللّٰہ پاک، اللّٰهُ تعالیٰ، اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ اور اللّٰهُ تبارَکَ وَ تعالیٰ وغیرہ بولنا چاہئے۔
    میرے پیارے پیارے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالیٰ عَلَیْهِ فرماتے ہیں:  (اللّٰهُ تبارک وتعالیٰ کے لئے) مِیاں کا اِطلاق نہ کیا جائے (یعنی نہ بولا جائے ) کہ وہ تین معنیٰ رکھتا ہے، ان میں  دو(۲)  ربُّ العزَّت کے لئے مُحال(یعنی ناممکن) ہیں، مِیاں یعنی آقا اور شوہر اور مرد و عورت میں   زِنا کا دلال، لہٰذا اِطلاق مَمنوع۔
    ( فتاوٰی رضویہ)
    نوٹ۔یاد رکھیں بندے کا ادب الگ ہے اور اللّٰهُ تبارَکَ وَ تعالیٰ کا ادب الگ ہے۔ لفظِ میاں بندے کے ادب کے لئے آتا ہے اللہ تعالیٰ کے ادب کے لیے نہیں۔ جس طرح بندے کا ادب کرتے ہیں ویسے اللّٰهُ ربُّ العزّت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب نہیں کرنا چاہیے۔

    ازقلم العاجز الحقیر محمد وسیم القادری جلالی مغل
    جموں وکشمیر ضلع راجوری انڈیا

    • 0