اردو ڈرامے میں رہسوں اور سبھاؤ کا دور۔

1 Answer

  1. بعض ناقدین کے مطابق اردو ڈرامے کے باقاعدہ آغاز کا سہرا واجد علی شاہ اختر پیا کے سر ہے۔ لکھنؤ کا یہ نواب رقص و سرور کا دلدادہ تھا ۔رام لیلا کی محافل سے متاثر ہو کر اس نے بھی شاہی قلعے میں رقص ونغمے کی محافل سجائیں ۔ ان محافل کو باقاعدہ اسٹیج کیا جانے لگا اور ان کا نام ’’رہس ‘‘ رکھا گیا۔

    واجد علی شاہ نے اپنے پہلے مثنوی ’’ افسانہ عشق ‘‘ کو اس طرز پر لکھا اور اسٹیج کیا ۔اس کے علاوہ ان کا ڈرامہ ’’ رادھا کرشن کنہیا ‘‘ لکھنؤ باغ میں اسٹیج کیا گیا۔واجد علی شاہ کے دور میں ہی امانت لکھنوی نے اپنا منظوم ڈرامہ ’’ اندر سبھا‘‘ تحریر کیا جو کہ رقص وسرور کی ہنگامہ آرائیوں پر مشتمل تھا۔ ابتدائی بند ملاحظہ ہو۔

    سبھا میں دوستو اندرونی آمد آمد ہے
    پری جمالو کے افسر کی آمد آمد ہے

    خوشی سے چہچہے لازم ہے مورت بلبل
    اب اس چمن میں گلِ تر کی آمد آمد ہے

    واجد علی شاہ کی سرپرستی میں اور بھی ڈرامے ہوئے جن میں عیش و نشاط کا سامان بہم تھا۔ ’’مگر اندر سبھا ‘‘ سارے ہندوستان میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی مقامی زبانوں ’’ دیونا گری ،گورمکھی اور گجراتی ‘‘ میں اس ڈرامے کے ترجمے ہوئے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی زبانوں میں بھی اس کے ’’ چالیس‘‘ ایڈیشن شائع ہوئے۔

    زبا ن و بیان سلا ست ،شگفتگی اور روانی کی وجہ سے اندر سبھا کی مقبو لیت کو دیکھتے ہو ئے پیر بخش کا نپو ری نے ’’نا گرسبھا‘‘ لکھا۔ ۱۸۵۶ میں ما سٹر احمد حسین کا ’’بلبل بیمار‘‘ ایدل جی کھوری کے ’’خورشید‘‘ اور ’’حا تم ‘‘ ’’ ہیرا ‘‘اور پگلا حجا م اسٹیج ہو ئے۔ ’’ ہیرا ‘‘ میں سیلانی کا کردار اور ’’ پگلا حجا م‘‘میں حجام کا کردار خود ایدل جی کھوری نے ادا کیا۔

    • 0