اجل کی جمع کیا ہے؟

1 Answer

  1. اگر اسم کے آخر میں ”ا“ ”یا“ ”ہ“ ہو تو ایسی صورت میں اسے یائے مجہول ”ے“ سے بدل لیتے ہیں۔ جیسے گھوڑا سے گھوڑے، کتا سے کتے، بندہ سے بندے، لڑکا سے لڑکے، پردہ سے پردے، اژدہا سے اژدہے وغیرہ۔

    اگر اسم کے آخر میں ”اں“ ہو تو پھر اس صورت میں ”ئیں“ سے بدل دیا جاتا ہے۔ جیسے دھواں سے دھوئیں، کنواں سے کنوئیں وغیرہ۔

    جن اسموں کے آخر میں مندرجہ بالا علامتوں میں سے کوئی علا مت نہیں پائی جاتی تو ان کے واحد جمع کی صورت یکساں رہتی ہے۔ جیسے درخت ہرا ہو گیا، درخت ہرے ہو گئے، شہر آباد ہو گیا، شہرآباد ہو گئے، ڈاکو مارا گیا، ڈاکو مارے گئے وغیرہ۔ اسی طرح اجل کی واحد اور جمع اجل ہی رہے گی۔ البتہ مجرور یا مفعول ہونے کی صورت میں درخت کی جمع درختوں اور شہر کی جمع شہروں بھی استعمال ہوتی ہے۔

    • 0